اس آئل ٹینکر پر مجموعی طور پر 36 ارکان سوار ہیں، جن میں 11 پاکستانی اور 25 سری لنکن و دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ 21 اپریل کو کیا گیا جس کے بعد مسلح افراد نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔
واقعے کے بعد میرین حکام نے الرٹ جاری کر دیا
خطے سے گزرنے والے دیگر بحری جہازوں کو سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت
متعلقہ حکام یرغمالی عملے کی باحفاظت رہائی کے لیے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے وزارت بحری امور کے ڈائریکٹوریٹ آف پورٹ کا پاکستانی کریو سے رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ جہاز پر بھیجنے والی ایجنسی بھی خاموش ہے۔
