0

علی امین کی بجٹ بحث کے دوران اپنی ہی حکومت پر تنقید، وسائل کی تقسیم پر سوالات اٹھا دیے

سابق وزیراعلیٰ  خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بجٹ بحث کے دوران اپنی ہی حکومت پر تنقید کی اور  وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں اور ترقیاتی ترجیحات پر تنقیدکرتے ہوئےکہا کہ صوبےکے عوامی مسائل حل نہ ہونا ہماری اجتماعی نااہلی ہے اور قانون سازی کے ثمرات بھی عوام تک نہیں پہنچ سکے۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نےکہا کہ اسمبلی ایک قانون ساز ادارہ ہے، مگر قانون سازی کے اثرات عام آدمی تک منتقل نہیں ہو رہے، انسانی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو بھی تمام قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، جن میں ٹی وی اور اخبارات تک رسائی بھی شامل ہے اگر قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومیں انسانوں پر سرمایہ کاری کرکے ترقی کرتی ہیں، اس لیے حکومت کو مضبوط معیشت، مؤثر نظام انصاف اور انسانی ترقی پر وسائل خرچ کرنے چاہئیں، اگر عوامی مسائل برقرار ہیں تو اس کی ذمہ داری حکومت اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔

سابق وزیراعلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) اور این ایف سی ایوارڈ میں اپنا مکمل آئینی حصہ ملنا چاہیے، قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کے حصے میں کمی ناانصافی ہے اور اس سے عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

علی امین گنڈاپور نے اپوزیشن لیڈر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں کو ادھورا چھوڑ کر نئے منصوبے شروع کرنا نقصان دہ ہے، عوام تختیوں اور افتتاحی تقریبات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اسپتالوں میں علاج، اسکولوں میں تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کتنی بہتر ہوئی ہیں۔

انہوں نے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد منصوبوں کے لیے انتہائی کم رقوم رکھی گئی ہیں، ہزارہ پیکج کے لیے 200 ارب روپے کے اعلان کے باوجود صرف 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ کئی منصوبوں کی رفتار ایسی ہے کہ موجودہ فنڈنگ کے ساتھ انہیں مکمل ہونے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام خود بجٹ دستاویزات کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کن منصوبوں کے لیے حقیقت میں کتنی رقم رکھی گئی ہے، صرف اعلانات اور شکریےکافی نہیں بلکہ مختص وسائل اور عملی پیش رفت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ لائیو اسٹاک، زراعت، معدنیات اور سیاحت جیسے اہم شعبوں کے لیے بجٹ میں بہت کم وسائل تجویز کیے گئے ہیں، حالانکہ یہی شعبے صوبے کی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے قرضوں کے استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئےکہا کہ کسی ایک ضلع یا مخصوص منصوبے کے لیے قرضہ نہیں لینا چاہیے بلکہ قرض صرف ان منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے جو مستقبل میں ریونیو پیدا کرسکیں اور صوبےکو معاشی فائدہ پہنچائیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوام نے منتخب نمائندوں کو ووٹ دیا ہے، اس لیے وسائل کی تقسیم میں توازن اور انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “آگے دوڑ، پیچھے چھوڑ” کی پالیسی سے گریز کیا جائے اور تمام علاقوں کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اپوزیشن کے حلقوں میں اپنے حمایتی افراد کو فنڈز دینےکی بات کرنا ان کی غلطی تھی۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “میں نے غلطی کی تھی، آپ وہ غلطی نہ دہرائیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں وہ کبھی محکموں اور کبھی حکومت کا دفاع کرتے رہے، لیکن آج وہ خود کو زیادہ آزاد محسوس کرتے ہیں اور حقائق کھل کر بیان کر رہے ہیں، موجودہ نظام میں سب کسی نہ کسی حد تک بندھے ہوئے ہیں اور حقیقی تبدیلی کے لیے فرسودہ نظام کو بدلنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں