0

فیفا کا بڑا یوٹرن، ارشد ندیم کو مایوسی، بھارتی نوجوان کرکٹر کی المناک موت

آج کے اسپورٹس راؤنڈ اپ میں سب سے پہلے بات کرتے ہیں فٹبال کی دنیا کے بے تاج بادشاہوں کی، جہاں ایک زبردست ‘یو ٹرن’ دیکھنے کو ملا ہے۔ جی ہاں! صدر ٹرمپ کے یارِ غار اور فیفا کے صدر جناب جیانی انفانٹینو نے بالآخر شدید عالمی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ انہوں نے اپنا متنازعہ ترین ‘فیفا فارورڈ انٹرپرائز منصوبہ’ گول کر دیا ہے، یعنی باضابطہ طور پر واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے! ارے بھائی، یاروں نے مخالفت کی ایسی آندھی چلائی کہ فیفا کے صدر کو لگ پتا گیا۔ انہوں نے مان لیا ہے کہ یہ منصوبہ فٹبال کی دنیا میں دراڑیں ڈال رہا تھا، اس لیے کھیل کی بہتری کی خاطر اسے ڈبے میں بند کر دیا گیا ہے۔ واہ بھئی! اسے کہتے ہیں، جب اونٹ پہاڑ کے نیچے آتا ہے تو سب سمجھ آ جاتا ہے۔ لیکن گھبرائیں نہیں، صدر صاحب نے یقین دلایا ہے کہ وہ سب کو ایک پیج پر لائیں گے اور ضرورت مند ملکوں میں فٹبال کی ترقی کا پہیہ چلتا رہے گا!
اب ذرا رخ کرتے ہیں کامن ویلتھ گیمز کے میدان کی طرف، جہاں پاکستانیوں کی امیدوں پر کچھ ایسا پانی پھرا ہے کہ دل ٹوٹ کر رہ گیا ہے۔ ہمارے شیر ارشد ندیم اس بار جیولن تھرو میں اپنا جادو نہ جگا سکے۔ 12 ایتھلیٹس کے فائنل میں وہ نویں نمبر پر رہے۔ پہلی تھرو تو ویسے ہی ضائع گئی، دوسری 77.41 اور تیسری 75.39 میٹر پر دم توڑ گئی۔ دوسری طرف سری لنکا کے رومیش تھارانگا نے تو چھپر پھاڑ کر 89.75 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ سونے کا تمغہ یعنی گولڈ میڈل اڑا لیا۔ اور تو اور، پڑوسی ملک بھارت کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کے ساتھ چاندی، جبکہ بھارت ہی کے یشویر سنگھ نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ خیر، ارشد بھائی! گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں، آپ ہمارے ہیرو ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اگلی بار آپ ضرور بازی لے جائیں گے!
اور آخر میں ناظرین، ایک ایسی خبر جس نے کھیل کی دنیا کو سوگوار کر دیا ہے۔ کھیل میں ہار جیت تو چلتی رہتی ہے، لیکن بھارت کے شہر ناگپور سے ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ صرف 17 سال کی ابھرتی ہوئی کرکٹر، ادیتی موریشور چوکانڈے نے زندگی کی پچ پر ہار مان لی ہے۔ جی ہاں، ودربھ کرکٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے پر اس بچی نے شدید ذہنی دباؤ میں آکر خودکشی کر لی ہے۔ ذرا سوچیے، دو سال کی کٹھن ٹریننگ، پسینہ اور آنکھوں میں سجے خواب پل بھر میں راکھ ہو گئے۔ پولیس کو ایک درد بھرا نوٹ بھی ملا ہے جس میں اس نے اپنی تکلیف اور دل کا بوجھ اتارا ہے۔ ناظرین، یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ مقابلہ بازی اور کیرئیر اپنی جگہ، لیکن ذہنی صحت اور زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ والدین اور کوچز کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کو ہارنا بھی سکھائیں، کیونکہ زندگی کا میچ جیتنا زیادہ ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں