0

محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ سیاسی، آئینی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی، شفاف انتخابات اور آزاد اداروں کی بحالی ناگزیر ہے۔

مانچسٹر: سابق گورنر سندھ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سینئر رہنما محمد زبیر نے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں سابق ممبر آف سندھ اسمبلی شہزاد قریشی ، صدر پی ٹی آئی نارتھ ویسٹ آصف بٹ ، شاہد انور چوہدری اور بلال گجر کے ہمراہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید سیاسی، آئینی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور ملک میں جمہوری اداروں کی حیثیت کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو گیا ہے اور عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دنیا بھر میں پاکستان کی عزت کے جھنڈے لگائے جا رہے ہیں تو اس سے پاکستانی عوام کو کیا فائدہ پہنچا؟ کیا ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئی؟ کیا عوام کی معاشی حالت بہتر ہوئی؟ ان سوالات کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں عدالتی نظام کمزور ہو چکا ہے اور انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہوا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے جمہوری نظریات کو پس پشت ڈال کر ملک میں ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے جو غیر اعلانیہ مارشل لا سے کم نہیں۔

محمد زبیر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے اور انہیں جبری مقدمات اور ریاستی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں ملک میں جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ہیں۔

انہوں نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور کئی سینئر صحافیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کاشف عباسی، حبیب اکرم اور دیگر صحافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو خاموش کروانے کی کوششیں جمہوری معاشروں کے لیے نیک شگون نہیں۔

سابق گورنر سندھ نے ملک میں توانائی کے بحران پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب بجلی کی سپلائی طلب سے زیادہ ہے تو پھر بھی لوڈشیڈنگ کیوں ہو رہی ہے اور عوام کو مہنگی بجلی کیوں خریدنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے عام انتخابات 2024 کے نتائج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “فارم 47” کے ذریعے حکومت بنانا آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے اور اس عمل نے جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، شفاف انتخابات اور میڈیا کی آزادی ہی پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ ہیں۔

محمد زبیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہو کر آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی، کیونکہ مضبوط جمہوری اداروں کے بغیر ملک ترقی اور استحکام کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں