بیجنگ (6 مئی 2026): چین آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کیلیے متحرک ہوگیا اور اس نے تنازعات کا حل بات چیت سے نکالنے پر زور دیا۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کیلیے اپنا کردار جاری رکھے گا، چینی بحری جہازوں اور عملے کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
چین نے زور دیا کہ تنازعات کا حل بات چیت سے نکالا جائے، آبنائے ہرمز میں جلد امن کی بحالی کی اُمید ہے۔
قبل ازیں، ایران نے آبی گزر گاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کیلیے باضابطہ طور پر ایک نیا میکانزم شروع کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نئے قواعد و ضوابط کے تحت اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت حاصل کرنے کیلیے مخصوص ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اور اس حوالے سے تمام متعلقہ جہازوں کو ای میل کے ذریعے نئے قواعد سے آگاہ کیا جائے گا۔
ایران نے پہلے ہی اسرائیل اور امریکا سے منسلک بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ مزید برآں، ایرانی پارلیمنٹ میں ایک تجویز زیرِ غور ہے جس کے تحت دشمن ممالک کے جہازوں اور غیر مسلح تجارتی جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔
ان نئے قوانین میں اسرائیل سے منسلک کسی بھی بحری جہاز کے داخلے پر مکمل پابندی کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ خطے میں ایرانی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
