ناظرین! مشرق وسطیٰ کی بساط پر اب ایک ایسی شطرنج کھیلی جا رہی ہے جہاں پرانے دوست، دشمن بن رہے ہیں اور نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! سب سے پہلے بات کرتے ہیں خطے کی سیاست میں آنے والے ایک بہت بڑے بھونچال کی۔ امریکا کا سب سے اہم خلیجی اتحادی، قطر، اب واشنگٹن سے راہیں جدا کرنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے لیکن یہ کافی نہیں۔ انہوں نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی کے لیے صرف امریکا پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور خود انحصاری کو مضبوط بنانا ہوگا۔ قطر کا یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اب امریکی چھتری سے باہر نکل کر مقامی دفاعی معاہدوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
ناظرین! دوسری جانب سمندروں پر کنٹرول کی جنگ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے باہر ایک نیا ‘نو گو زون’ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق، اس نئے زون کا نقشہ عمان کے ساتھ طے پا گیا ہے اور آئندہ چند روز میں اس پر دستخط ہو جائیں گے۔ یہ نیا پابندی والا زون امریکی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیج تک پھیلے گا، اور اس میں داخل ہونے والے ہر بحری جہاز کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ 28 فروری کے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے آبنائے ہرمز مکمل کھلی ہوئی تھی۔ امریکا نے خطے پر وحشیانہ جنگ مسلط کر کے عالمی جہاز رانی کا نظام تباہ کیا، اور اب اس کا ملبہ ایران پر ڈال رہا ہے۔ اسماعیل بقائی نے جمہوریہ کوریا اور دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ میں آ کر خلیج میں کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہ بنیں ورنہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ویوورز! اس کشیدگی میں سوشل میڈیا پر بھی ایک الگ ہی جنگ چل رہی ہے۔ اسماعیل بقائی نے مشہور اینی میٹڈ سیریز ‘دی سمپسنز’ کی ایک تصویر شیئر کر کے امریکا کا خوب مذاق اڑایا اور طنز کیا کہ امریکا خود تجارتی راستوں میں خلل ڈال کر معصوم بننے کی اداکاری کر رہا ہے۔ لیکن اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی اشتعال انگیز قدم اٹھایا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں امریکی جنگی طیارے ایران کے سب سے اہم تیل کے مرکز ‘جزیرہ خارگ’ کو آگ اور خون میں نہلاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں، اور ساتھ لکھا ہے “بائے بائے خارگ!”۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایرانی معیشت کا مذاق اڑاتے ہوئے چارٹس شیئر کیے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ ایرانی ریال کی قدر گر کر 22 لاکھ 70 ہزار ریال فی ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور مہنگائی بے قابو ہے۔
ناظرینِ گرامی! ٹرمپ بھلے ہی ایران کا مذاق اڑا رہے ہوں، لیکن خود ان کے اپنے ملک میں ان کی پالیسیوں کے خلاف بغاوت عروج پر ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے ٹرمپ کے اس بیان پر انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے جس میں ٹرمپ نے ایران جنگ کو ایک ‘چھوٹی بات’ قرار دیا تھا۔ کرس مرفی نے ٹرمپ کو ‘خطرناک حد تک وہم کا شکار’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نام نہاد چھوٹی جنگ میں 18 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں، فوجی اڈوں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے، امریکی کسان دیوالیہ ہو رہے ہیں، اور عوام 5 ڈالر فی گیلن کے حساب سے مہنگا ترین پیٹرول خریدنے پر مجبور ہیں۔ سینیٹر مرفی کا کہنا ہے کہ ان سب نقصانات کے باوجود ایران پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کھڑا ہے!
کیا ٹرمپ کا جزیرہ خارگ کی تباہی کا خواب اے آئی تصویروں سے نکل کر حقیقت بنے گا؟ یا ایران کا نیا ‘نو گو زون’ امریکی بحریہ کے لیے نیا جال ثابت ہوگا؟ عالمی سیاست کے اس بساط کی ہر تہہ در تہہ کہانی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!