ناظرین! پینٹاگون میں لگی آگ اب وائٹ ہاؤس کے دروازوں تک پہنچ چکی ہے اور سپر پاور امریکا کے اندرونی اختلافات پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس وقت شدید ترین دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے اپنے ہی ساتھی ان کی چھٹی کروانے پر تل گئے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر تھام ٹیلیس نے صدر ٹرمپ سے دو ٹوک مطالبہ کیا ہے کہ فوج میں بدانتظامی اور نااہلی کے مرتکب وزیر دفاع کو فوری عہدے سے ہٹایا جائے۔ ہیگستھ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نجی سگنل گروپ میں حساس فوجی معلومات شیئر کیں جس میں ایک صحافی بھی غلطی سے شامل تھا، اور حد تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ، بھائی اور ذاتی وکیل کے ساتھ بھی ایک الگ گروپ میں ٹاپ سیکرٹ منصوبے شیئر کیے۔ ان کی ان ہی بچکانہ حرکتوں اور جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے پینٹاگون میں شدید عدم استحکام پیدا ہوا اور بحریہ کی سربراہ ایڈمرل لیزا فرانشیٹی، کوسٹ گارڈ کی کمانڈنٹ لنڈا فیگن اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ چارلس کیو براؤن سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کو یا تو ہٹا دیا گیا یا وہ خود استعفے دے کر گھر چلے گئے، جن میں تازہ ترین نام فوج کے سیکریٹری ڈینیل ڈرسکول کا ہے۔
ناظرین! اس اندرونی خلفشار کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف بغاوت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ امریکی رکنِ کانگریس ڈیلیا رامیرز نے ایران اور فلسطین میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ‘بلاک دی بمبز ایکٹ’ منظور کرنے کا ہنگامی مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا واضح کہنا ہے کہ امریکی بم معصوم خواتین اور بچوں کے چیتھڑے اڑا رہے ہیں اور کانگریس، صدر ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ کے ان جنگی جرائم پر مزید آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی۔ یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جنگ اب امریکی سیاستدانوں کے گلے کی ہڈی بنتی جا رہی ہے۔
ویوورز! دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غصہ آسمان کو چھو رہا ہے اور انہوں نے اپنی ہی فوج کی کمزوریوں کا پردہ چاک کرنے والے امریکی صحافیوں اور میڈیا اداروں کو ‘غدار گندگی’ قرار دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج پہلے سے کہیں زیادہ ہتھیار بنا رہی ہے اور ان کے پاس اتنے ہتھیار ہیں جو کبھی استعمال بھی نہیں ہو سکتے۔ لیکن امریکی میڈیا مسلسل یہ خبریں دے رہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کے پیٹریاٹ، تھاڈ، ٹوماہاک اور پریسیژن اسٹرائیک میزائلوں کا ذخیرہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کی یہ بوکھلاہٹ اور معلومات افشا کرنے والوں کو لمبی قید کی سزائیں دلانے کی دھمکیاں بتا رہی ہیں کہ پردے کے پیچھے واشنگٹن کو سنگین عسکری چیلنجز کا سامنا ہے۔
ناظرین! اس جنگ کا سب سے بھیانک اثر امریکی معیشت اور عالمی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔ امریکی وسطِ مدتی انتخابات سر پر ہیں اور عالمی منڈی میں خام تیل 97 ڈالرز فی بیرل کو چھو رہا ہے۔ امریکا کے اندر ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 5.82 ڈالرز فی گیلن تک جا پہنچی ہیں جو کہ فروری سے اب تک 55 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کار تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں اپنی کامیابیوں کو محض بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اور آخر میں ویوورز! امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں یہ اعتراف کر لیا ہے کہ انہیں خود نہیں معلوم کہ ایران جنگ نومبر کے الیکشن تک ختم ہو گی یا نہیں۔ لیکن انہوں نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ چین، جو کہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اب ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں امریکا کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ نائب صدر نے ایران میں شادی کی تقریب پر ہونے والے امریکی حملے کی بھی ڈھٹائی سے تردید کی اور الٹا ایرانی میڈیا پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سینٹکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ختم ہو چکا ہے اور جب تک ایران بحری جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتا، واشنگٹن تہران سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
کیا ٹرمپ انتظامیہ اپنے ہی بچھائے ہوئے اس جنگی جال میں پھنس چکی ہے اور کیا پینٹاگون کی یہ بغاوت کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے؟ اس عالمی بساط کی ہر ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

