ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے ایک سال قبل معرکہ حق میں اللہ کے فضل سے پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی اور اس جنگ میں جو دنیا نے دیکھا وہ ہماری مجموعی پاور پوٹینشل کا 10 سے 15 فیصد ہے۔
معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فضائیہ اور بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا معرکہ حق میں اللہ کے فضل سے مسلح افواج قوم کی امنگوں پر پورا اتری۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شسکت دی، یہ بات پاکستانی بچوں کے ساتھ ہندوستانی بچے بھی جانتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے مانتے نہیں، معرکہ حق میں پاکستان نے واضح طورپر ڈیٹرینس قائم کیا ، جنگ کا زاویہ بدل دیا،کسی کو شک ہے تو ہم نے ابھی ایک قسط دکھائی ہے، ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا ہندوستان نے بہت مکاری سے بیانیہ بنایا کہ پاکستان دہشتگردی میں ملوث ہے لیکن اصل حقیقیت یہ ہے کہ بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے، دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کے لیے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا راج ناتھ اور مودی اورکیا کہے، جنگ کے دوران جس نے لاہور کی پورٹ پرقبضہ کرلیاتھا انہوں نے یہ ہی کہنا ہے، انہوں نے دنیا میں اور اپنے لوگوں میں خود کو دس فٹ لمبا بناکردکھایا ہوا ہے، ابھی ہم نے ملٹی پل ڈومین میں ایک چھوٹی سے جھلک دکھائی ہے، اس کی بھی ایک چھوٹی سی جھلک قوم 14 اگست کو دیکھے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اب کی بار ہم پیچھے سے حساب شروع کریں گے، جہاں سے انکا آغاز ہوتا ہے، وہاں سے جب ہم برابرکرتے آئیں گے تو آئندہ یہ کراچی کا نام لیتے ہوئے گھبرائیں گے، کسی کی ذہن میں اگر کوئی خوش فہمی ہے تو انہیں سمجھانا ہمارے لیے منٹوں کا کام ہے، انکی پراکسیوں سے لڑتے ہوئے ہمیں دہائیاں ہوگئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا، گندی زبان سے کراچی کانام لیں،دیکھیں پھر کراچی والےان کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کون لوگ تھے جنہوں نے یہ کروایا، بھارت بتائے کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے واقعے کے 15 منٹ کے اندر ایف آئی آر ہو گئی کہ دہشتگرد سرحد پار سے آئے تھے لیکن بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام رہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازع ہے، بھارت اپنے لوگوں پر دہشتگردی کراتا ہے اور الزام دوسروں پر عائد کر دیتا ہے، بھارت کے لیے نصیحت کے لیے سچ بولنا سیکھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، اگر یہی زبان استعمال کرنی ہے تو پھر آؤ سامنے، بھارت کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہےکہ جو کرنا ہے کرو، روایتی یا غیر روایتی، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، ہم کھڑے ہیں اور بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں کی جنگ ہے، کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لاسکتا، اگر کسی کو شک ہے تو اس کی ایک قسط ہم دکھا چکے ہیں، پاکستان کی سلامتی اور دفاع کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں جو آپ نے دیکھا ہے وہ ہماری مجموعی پاور پوٹینشل کا 10 سے 15 فیصد ہے، 14 اگست کو عظیم الشان پریڈ ہوگی، پاور پوٹیشنل کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے، مقصد یہ ہے کہ وہ بعد میں یہ نہ کہیں کہ بتایا نہیں تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیں خود پر اور قوم پر بھروسہ ہے، قوم کو بھی ہم پر بھروسہ ہے ، کسی کی جرت نہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان آسکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، وہ انہوں نے آپس میں کرنا ہے، ہم تو کہتے ہیں سیاست دان اپنے معاملات بات چیت سے حل کریں ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے بہت گہرے اور برادارانہ تعلقات ہیں، پاکستان کو سعودی عرب اور سعودی عرب کو پاکستان کی سکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے، محافظین حرمین شریفین کا اعزاز ہر پاکستانی کے لیے اہم ہے ، حرمین شریفین کی حفاظت سعودی عرب کی قومی سلامتی سے جڑی ہے، سعودی عرب کو تھریٹ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا سادہ سا مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ، افغان طالبان رجیم بطور ریاست برتاؤ نہیں کررہی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ان کے حلیے آپ کو اسلامی نظر آئیں گے لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہم آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے، دہشتگردی کی جنگیں، بیانیے کی جنگیں لمبی ہوتی ہیں یہ وقت لیتی ہیں، ابھی ہم نے ایک چھوٹی سے جھلک دکھائی ہے، ان کی پراکسیوں سے لڑتے ہوئے ہمیں دہائیاں ہوگئی ہیں۔
