لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں جنگ بندی کے باوجود حملے، جوابی کارروائیوں کے دعوے، سفارتی مذاکرات اور اسرائیلی فوج کی بڑی سطح کی تیاریوں نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق لبنانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 2951 سے زائد افراد جاں بحق اور 8988 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے صرف جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے کم از کم 657 افراد جاں بحق اور 1444 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود تشدد مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس نے بلیدا کے قریب ایک اسرائیلی ٹینک کو نشانہ بنایا، جب کہ خیم کے علاقے میں تین فوجی بلڈوزرز پر بھی حملے کیے گئے۔حزب اللہ نے مزید کہا کہ راشاف کے علاقے میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر راکٹ اور توپ خانے سے بھی حملہ کیا گیا ہے۔ان دعوؤں کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے
