اوراب دنیا بھرسے کچھ عالمی خبروں پر ایک نظر۔۔۔
ایرانی خبرایجنسی مہرنیوز کے مطابق ایران نے امریکاکے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے، امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے۔مہرنیو نے ذرائع کےحوالےسےرپورٹ کیا کہ امریکی تجویزکا جائزہ لیا جا رہا ہے، ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے۔ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مزاحمتی محور کو ردعمل پر مجبور کر دیں گی، محور مزاحمت باب المندب کی بحری ٹریفک کے ساتھ وہی کر سکتا ہے جو صورتحال آبنائے ہرمز کی ہے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کاکہنا تھا کہ لبنان پر حملے بند نہ ہوئے توسنگین نتائج ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت اور امریکی افواج کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ کھوکھلی دھمکی نہیں ہے، ایران فوجی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں امریکی افواج بھی نتائج بھگتیں گی۔
اور۔۔ واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے باہمی جنگ بندی کی امریکی تجویز قبول کرلی ہے۔لبنانی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کو توسیع دے کر لبنان کے تمام علاقوں میں نافذ کرنے کی تجویز قبول کی ہے۔لبنانی سفارتخانے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اسرائیل بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملوں سے گریز کرے۔