0

ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان میں خفیہ اڈے استعمال کیے، امریکی میڈیا کا انکشاف

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان میں خفیہ طور پر اپنے ایلیٹ فوجی اور انٹیلیجنس یونٹ تعینات کیے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  یہ تعیناتیاں مشرقِ وسطیٰ میں قائم خفیہ اڈوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ تھیں جس کا مقصد ایران کے خلاف کارروائیوں میں سہولت فراہم کرنا تھا۔

سی این این کے مطابق چار باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ فورسز آذربائیجان کے جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات سے آپریٹ کر رہی تھیں۔ ان میں بعض مقامات ایرانی شہر تبریز سے صرف 60 میل کے فاصلے پر تھے جسے اسرائیل نے جنگ کے دوران نشانہ بھی بنایا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے خصوصی کمانڈو یونٹس کو بھی ان مقامات پر تعینات کیا  تھا جہاں سے انہوں نے انٹیلیجنس معلومات اکٹھی کیں اور ڈرون آپریشنز انجام دیے، جس سے اسرائیل کو شمالی ایران  پر نظر رکھنے کا موقع ملا۔

سی این این کی جانب سے پہلی بار رپورٹ کیے گئے اس خفیہ آپریشن کو اسرائیل کی ان متعدد فوجی پوزیشنز میں سے ایک قرار دیا گیا ہے جو اس نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں قائم کیں۔

ان پوزیشنز نے اسرائیلی فوج کی رسائی کو غیر معمولی حد تک بڑھایا اور یہ بھی ظاہر کیا کہ ایران کے ہمسایہ ممالک نے ان کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ آذربائیجان کے علاوہ عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ میں بھی اس نوعیت کے خفیہ فوجی اڈے اور تنصیبات قائم تھیں۔ ابتدا میں ان اڈوں اور یہاں موجود اسرائیلی فورسز  کو ہنگامی حالات میں ریسکیو ٹیموں اور ریسکیو مراکز کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم بعد میں ان کا دائرہ کار بڑھا کر انہیں فوجی اور انٹیلیجنس مراکز میں تبدیل کر دیا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ان تعیناتیوں کے نتیجے میں اسرائیلی افواج نے ایران کے جنوب، مغرب اور شمال  میں پوزیشنز قائم کیں جس سے اس کی  رسائی سیکڑوں میل تک بڑھ گئی اور ایران کے اندر مختلف اہداف پر مسلسل حملے ممکن ہوئے۔

سی این این کے مطابق آذربائیجان میں تعینات فورسز میں درجنوں اہلکار شامل تھے جن میں اسرائیلی اسپیشل آپریشنز فورسز، ایلیٹ ہیلی بورن جنگی و ریسکیو یونٹس اور موساد کے اہلکار شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق آذربائیجان سے ہونے والے اہم آپریشنز میں سے ایک 4 مارچ کو  پاسدران انقلاب کے انٹیلیجنس ڈویژن کے سربراہ رحمان مقدم کو نشانہ بنانا تھا جنہیں اسرائیل 2024 میں ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس آپریشن کے ایک روز بعد ہی آذربائیجان کے علاقے نخچیوان کے ائیرپورٹ  پر ڈرون حملہ ہوا۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں آذربائیجان کے سفارتخانے کے ترجمان نے  ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’ہم آذربائیجان کی سرزمین کو کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں‘۔

سی این این کے مطابق متناز ع صومالی لینڈ نے بھی اسرائیل کو ایک اضافی فوجی اڈہ فراہم کیا، جہاں اسرائیلی طیارے ایران کے لیے طویل فاصلے کی پروازوں کے دوران ممکنہ طور پر قیام کر سکتے تھے۔ گزشتہ برس دسمبر میں اسرائیل صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا تھا۔

خیال رہے کہ  ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے عراق میں بھی دو خفیہ اڈے استعمال کیے تھے جو لاجسٹک معاونت اور ضرورت پڑنے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے لیے استعمال ہو سکتے تھے۔

ان تنصیبات کی خبر پہلے امریکی اخباروں  وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز میں شائع ہوچکی ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے جنگ کے دوران خاموشی سے متحدہ عرب امارات میں آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام اور اسے چلانے والے اہلکار بھی تعینات کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں