ناظرین۔۔
ایران امریکا معاہدہ ہوگیاہےلیکن نئے اعتراضات نے اسے مشکوک بنانا شروع کردیاہے،،اسرائیل میں اس معاہدے پرصف ماتم بچھی ہوئی ہے او روہ کبھی بھی اس معاہدے کومنظورنہیں ہونےدےگااس لئے اس نے امریکامیں موجود اپنے سلیپنگ سیلز متحرک کردئیے ہیں تاکہ معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچنےسےپہلےہی سبوتاژکیاجاسکے۔۔
ناظرین خبریہ ہےکہ امریکی خفیہ ادارےسی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے پاس موجود شواہد ایران کے ارادوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ تہران حتمی معاہدے میں مطلوبہ جوہری رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں۔امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ اور دیگر حکام کو ایران سے متعلق رپورٹ دی ہے کہ جمع کردہ شواہد کے مطابق امریکا جن جوہری رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے حتمی معاہدے میں ان پر ایران کی آمادگی مشکوک ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی ٹیم میں صرف ریٹکلف ہی اس معاہدے کے بارے میں شکوک نہیں رکھتے، مشاورت میں وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع نے بھی مفاہمتی یادداشت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس معاہدے کے حامی تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو معاہدے کے اعلان سے قبل ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے درمیان کئی اجلاس ہوئے۔ان اجلاسوں میں مختلف امریکی خفیہ اداروں کی معلومات کا جائزہ لیا گیا۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان معلومات سے پتہ چلا کہ ایرانی حکام کی باتیں ثالثوں اور امریکی حکام سے ہوئی باتوں سے مختلف تھیں۔اجلاس میں ریٹکلف اور روبیو کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی بنیاد پر انہیں شک ہے، خفیہ معلومات بتاتی ہیں کہ ایران کے اصل ارادے معاہدے والے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق ٹرمپ مختلف آرا سنتے ہیں، فیصلہ انہی کا ہوتا ہے، یہ مفاہمتی یادداشت امریکی حکومت کی تمام شرائط پوری کرتی ہے، تمام بنیادی شرائط یعنی ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، ایران زیادہ افزودہ یورینیم اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا نہ دنیا کی توانائی کی فراہمی یرغمال بنا سکے گا، ٹرمپ صرف اچھے حتمی معاہدے کو قبول کریں گے۔سی آئی اے اور وزارت خارجہ نے معاملے پر تبصرہ سے انکار کیا ہے اور پینٹاگون نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ناظرین اگراسی طرح شبہات اور تحفظات کا سلسلہ جاری رہا توڈرہے معاملہ ایک بارپھرکھٹائی میں پڑسکتاہے۔۔
اسرائیل کےدوسرامحاذ لبنان ہےجس پرمسلسل بمباری کرکے،جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکےوہ معاہدے کےعمل کو تہس نہس کرسکتاہے اور وہ اس حوالےسے پرتول رہاہے،،یہی وجہ ہے ایران نے ایک بارپھرخبردار کرتےہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے نفاذ کے دوران مسلح افواج کی تیاری کی سطح پہلے سے کہیں زیادہ برقرار رکھی جائے گی۔ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق معاہدے کی مدت کے دوران ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گا۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےصاف صاف کہا ہےکہ لبنان پر کسی بھی اسرائیلی حملے یا کسی علاقے پر قبضہ امریکا ایران معاہدے کی خلاف ورزی ہوگا، ممکنہ طور پرجمعہ کو امریکا ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دورسوئٹزرلینڈ میں شروع گا۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت میں ایک طرف امریکا اور اسرائیل ہیں اور دوسری جانب ایران اورحزب اللہ فریق ہیں،،ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی تو ایران فوری اور سخت ردِعمل دے گا اور خطے میں فوجی صورتحال کو معاہدے سے پہلے والی حالت میں واپس لے جایا جائے گا۔
ناظرین۔۔۔۔ایرانی پاسداران کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ جنگ نے امریکا کی ساکھ مکمل ختم کر دی، جبکہ اسرائیل کے زوال کے عمل کو تیز کر دیا۔ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ شدید دباؤ، وسیع تباہی اور سنگین حملوں کے باوجود مزاحمتی محور کا کوئی بھی گروپ میدان سے پیچھے نہیں ہٹا۔انہوں نے کہا کہ دشمنوں کی تمام کوششوں کے باوجود مزاحمتی قوتوں کی ثابت قدمی برقرار رہی، جس نے مخالفین کو خوفزدہ کر دیا ہے۔قانی کے مطابق خطے میں موجود مزاحمتی گروہوں نے ایران کے دفاع اور حمایت کے لیے خود فیصلہ کیا اور انہیں اس حوالے سے کسی قسم کی ہدایت نہیں دی گئی۔انہوں نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے بارے میں کہا کہ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ دیگر طبقات کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔قدس فورس کے سربراہ نے مزید کہا کہ اب تک دنیا نے حزب اللّٰہ کی طاقت کا صرف ایک محدود حصہ دیکھا ہے اور اس کی حقیقی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کاروں نے ثالثوں سے مکمل اختیار کے ساتھ بات چیت کی۔
ناظرین آخرمیں نائب امریکی صدرجےڈی وینس کےبیان کوڈسکس کریں گے،جن کاکہناہے،، ایران کے ساتھ 60 روزہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی کوئی فیس یا رکاوٹ نہیں ہو گی،،دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے 3 تیل بردار ٹینکر اور 2 مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔