ناظرین۔۔۔۔
تازہ ترین اپ ڈیٹ یہ ہےکہ آج جمعہ کو طے شدہ پروگرام کے مطابق برگن سٹاک میں امریکا ایران مذاکرات نہیں ہوں گے، سوئس وزارت خارجہسوئس وزارت خارجہ نے باضابطہ طورپرتصدیق کردی ہے اور اپنے بیان میں کہاہے برگن سٹاک میں امریکا ایران مذاکرات نہیں ہورہے،،دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام نےبھی تصدیق کردی ہےکہ یران امریکا مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد سے متعلق ابتدائی مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس آج سوئٹزرلینڈ روانہ نہیں ہوں گے۔یعنی مذاکرات کی بیٹھک نہیں سجےگی ۔۔
ناظرین یہ اچانک سب کچھ الٹ پلٹ کیوں ہوگیا؟طے شدہ پروگرام کیسے اورکیوں منسوخ کیاگیا اس کی وجوہات کےبار ے میں آپ کوآخرمیں بتائیں گےپہلےاسرائیل اورلبنان کےحوالےسے خطےمیں جاری شدید لڑائی اور کشیدگی پربات کرتےہیں ۔۔۔لبنانی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ رات جنوبی لبنان پر شدید ترین بمباری کی اور متعدد رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ پر فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہوگئے دوسری جانب حزب اللہ بھی میدان میں اترآئی ہے اوراپنے شہریوں اور سرزمین کی حفاظت کیلئے اسرائیل کومنہ توڑ جواب دےرہی ہے،،،اسرائیلی میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللہ جنگجوؤں کے ساتھ جاری لڑائی کے دوران 4 فوجی مارے گئے ہیں اسرائیلی فوج کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک 32 سالہ افسر لیفٹیننٹ Dor Gedalia Ben Simhon بھی شامل ہیں جو اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کے کمانڈر ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا بتانا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں 5 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ویویورز۔۔۔۔لڑائی اتنی شدید ہےکہ عالمی برادری نےبھی تحفظات کا اظہارکرنا شروع کردیاہے،فرانسیسی وزیرخارجہ ژاں نوئل بارو کاکہنا ہے اسرائیل کو لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرنی چاہئیں، امریکا کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے، فرانس لبنانی فوج کی حمایت کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کی کوششیں کر رہاہے
دوسری جانب حیرت انگیز طورپرجیسےہی ایران امریکا پاکستان نے مفاہمتی یاداشت پردستخط کئےہیں امریکا نے اپنا رویہ بدلنا شروع کردیاہے اور ساتھ ہی بظاہر اسرائیل کوبھی ایک حساب سے کھلی چھوٹ دےدی گئی ہےکہ وہ اب لبنان پروحشیانہ بمباری جاری رکھ سکتاہے ڈویلپمنٹ یہ ہےکہ امریکا نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے منسلک افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق حزب اللہ کیلئے فنڈز جمع کرنے والے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائدکی گئی ہیں، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا لبنان کے امن کیلئے ضروری ہے۔حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ محمود قماطی پربھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ان پر ایران سے رقوم منتقل کرنے کاالزام ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ لبنانی سیاسی جماعت مارادا موومنٹ کے سربراہ سلیمان فرنجیہ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ان پر حزب اللہ کے سیاسی اتحاد کی حمایت کا الزام ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کے تحت نامزد افراد کے امریکی اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، پابندیوں کی خلاف ورزی پر امریکی اور غیرملکی اداروں کو سزا ہوسکتی ہے۔
امریکا اوراسرائیل بدلتے تیوردیکھ کرایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبات کا سخت جواب دیاجائےگا، وعدہ خلافی ہوئی تو ہم بھرپور ردعمل دیں گے۔باقر قالیباف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئےکہاکہ سپریم لیڈر نے ہمیں معاہدے کی شقوں اور شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے کا ٹاسک دیاہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ اگر فریقِ مخالف کی جانب سے بد نیتی، معاہدے کی خلاف ورزی یا حد سے زیادہ مطالبات سامنے آئے تو ہم دشمن کو سخت اور فیصلہ کن جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کریں گے۔باقر قالیباف نے کہا کہ انہیں جنگ کے دوران ایک بار سبق سکھایا جا چکا ہے، اگر وہ دوبارہ اسی راستے پر چلنے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس بار انہیں اس سے بھی زیادہ سخت جواب ملے گا۔
ناظرین۔۔۔اس سارے بیک گراونڈ کےبعد آپ کوبتائیں گے سوئٹزرلینڈ میں آخری لمحات میں امریکہ ایران مذاکرات کیوں ملتوی ہوئے،،تو خبریہ ہےمذاکرات کےملتوی ہونے کی سب سے بڑی وجہ لبنان پراسرائیلی حملے تھے۔۔تفصیلات کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کی شدید بمباری کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا حالیہ امن معاہدہ شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔لبنان پر مسلسل حملوں کے باعث سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان شیڈول اہم ترین مذاکرات آخری لمحات میں ملتوی کر دیے گئے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کا اپنا طے شدہ دورہ ملتوی کر دیا ہے جہاں انہوں نے ان مذاکرات کی قیادت کرنی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف مذاکرات کار قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سوئٹزرلینڈ روانگی کے لیے بالکل تیار تھے لیکن اسرائیلی جارحیت جاری رہنے کی وجہ سے ایرانی وفد کا دورہ آخری لمحات میں ملتوی کیا گیا۔اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس التوا کی وجہ لاجسٹک مسائل کو قرار دیا ہے، تاہم حزب اللہ کے قریبی سمجھے جانے والے عرب سیٹلائٹ چینل ‘المیادین’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجاً اپنا وفد سوئٹزرلینڈ بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ہم نےپہلےہی اس خدشے کااظہارکردیاتھاکہ اسرائیل اس عمل کوسبوتاژکرنے کیلئے ہرحدتک جائےگا،آن لائن دستخط کےساتھ مفاہمتی یاداشت توطےپاگئی لیکن پاکستان کی میزبانی میں سویٹرزلینڈمیں تقریب نہ ہوسکی ،اوراسرائیل یہی چاہتاتھا۔اگرچہ مذاکرات کاعمل جاری رہےگالیکن ایک بڑی تقریب ،ایک تاریخی ایونٹ اسرائیلی سازش سے سبوتاژہوگیا
