ناظرین! ایسا لگ رہا ہے کہ بساط بچھ چکی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو کے بچھائے ہوئے جال میں مکمل طور پر پھنس گئے ہیں۔ نیتن یاہو نے کانوں میں سرگوشی کی کہ ایران نے ٹرمپ کے سر کی قیمت لگا دی ہے اور موت کے پروانے جاری ہو چکے ہیں، اور بس۔۔۔ اس ایک خوفناک خبر نے وائٹ ہاؤس کی بنیادیں ہلا دیں۔
ویوورز! اس انٹیلی جنس کے ملتے ہی ٹرمپ کا لہجہ شعلے اگلنے لگا۔ انہوں نے ایران کو تاریخ کی سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر قاتلانہ حملے کی ذرا سی بھی کوشش ہوئی، تو انجام اتنا بھیانک ہوگا کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر صدر ٹرمپ نے ایک لرزہ خیز انکشاف کیا کہ ایران کی طرف رخ کیے ہوئے ایک ہزار امریکی میزائل بالکل تیار کھڑے ہیں۔ ان کا دو ٹوک پیغام تھا کہ اگر موجودہ امریکی صدر پر کوئی آنچ بھی آئی تو امریکی فوج کو ایران کا نقشہ مٹانے کے احکامات پہلے ہی دیے جا چکے ہیں۔ لیکن ناظرین، یہاں سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اپنے اس شعلہ بیان پیغام کے آخر میں صدر ٹرمپ نے لکھا: “تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں”۔ گو کہ وہ پہلے بھی ایسی پوسٹس کرتے ہیں، مگر آج کی گھبراہٹ دیکھ کر یوں لگ رہا ہے جیسے موت کے خوف نے انہیں سچ مچ اللہ یاد دلا دیا ہو۔
ویوورز، ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا ایک پرانا طریقہ واردات ہے؛ وہ خود ہی کہانیاں گھڑتے ہیں، خود ہی وضاحتیں دیتے ہیں، اور پھر خود ہی تردید کر کے کوئی نہ کوئی بڑا قدم اٹھا لیتے ہیں۔ اپنی اسی پوسٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بات چیت کی بھیک مانگی ہے جسے انہوں نے قبول تو کر لیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ الٹی میٹم بھی دے دیا ہے کہ ‘جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے’۔ دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس امریکی ڈرامے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران نے واشنگٹن سے کسی قسم کی بات چیت کی کوئی درخواست نہیں کی۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے محض ایک ہفتے بعد ہی جنگ بندی اور نام نہاد فتح کا ڈھنڈورا پیٹا تھا، لیکن بطور رپورٹر انفو پلس زیرو سیون (INFO PULSE07) کی سکرین پر ہم جو حقائق آپ تک پہنچا رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ معاہدوں کے باوجود خطہ ابھی تک جنگ کے شعلوں میں جل رہا ہے۔
ناظرین! امریکا نے اب ایران کی گردن پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایک نیا الٹی میٹم دیا ہے کہ تہران ہفتے تک آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اور راستہ کھلا رکھنے کا باقاعدہ اعلان کرے۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، واشنگٹن نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے تہران کو یہ دھمکی آمیز پیغام پہنچا دیا ہے کہ حالیہ حملے اس نازک معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں جو تین ہفتے قبل طے پایا تھا، اور اب یہ معاہدہ ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔
بات صرف دھمکیوں تک محدود نہیں، ویوورز! امریکا نے ایران پر معاشی پابندیوں کا ایک نیا اور سخت ترین گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی مالیاتی سہولت کار علی انصاری اور کئی ‘شیڈو ایکسچینج ہاؤسز’ کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ امریکی دعوے کے مطابق، یہ نیٹ ورک مجتبیٰ خامنہ ای سے جڑا ہے اور اربوں ڈالرز کی خفیہ ترسیل اور سرکاری دولت کو بیرون ملک منتقل کرنے میں ملوث ہے۔
اور اسی کشیدگی کے بیچ، امریکی بحریہ نے اپنے دو سب سے خطرناک اور دیوہیکل طیارہ بردار جہاز، یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش، ایران کی دہلیز—یعنی خلیجِ عمان—میں لا کھڑے کیے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنا اور تہران کا سانس روکنا ہے۔
لیکن ناظرین، ایران بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ تہران نے اقوامِ متحدہ میں واشنگٹن کی اس غنڈہ گردی کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد واشگاف الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ امریکا کے ان غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات کو روکے، ورنہ خطے میں پیدا ہونے والے کسی بھی طوفان اور سیاسی مضمرات کا تنہا ذمہ دار امریکا ہوگا۔ ہم پکی خبر کے پلیٹ فارم سے اس بدلتی ہوئی صورتحال کی ہر کڑی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ ٹکراؤ کسی بھی وقت پورے مشرق وسطیٰ کو بھسم کر سکتا ہے۔
