0

**آبنائے ہرمز سے پک ایکس ماؤنٹین تک، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ خطرناک موڑ پر پہنچ گئی!**

ناظرین! مشرقِ وسطیٰ کا ماحول اس وقت بارود کی طرح گرم ہے، اور حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس پلیٹ فارم سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! ایران اور امریکا کے درمیان تابڑ توڑ حملوں کا لرزہ خیز سلسلہ جاری ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دو ٹوک وارننگ دی ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا کی شرارتوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ایرانی فوج نے ‘آپریشن صاعقہ’ کے آٹھویں مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے اردن کے الازرق فضائی اڈے پر دھماکا خیز ڈرونز کی بارش کر دی ہے، جس کا نشانہ وہاں موجود امریکی F-18 لڑاکا طیارے اور فوجی ساز و سامان کے بڑے ہینگرز بنے ہیں۔
لیکن ناظرین، امریکا بھی خاموش نہیں بیٹھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 14 جولائی کی رات 7 گھنٹے طویل اور خوفناک آپریشن کر کے حملوں کا ایک نیا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز اور ایرانی ساحلوں پر میزائل اور دفاعی تنصیبات کو درست نشانے والے ہتھیاروں سے تباہ کیا ہے۔
ویوورز! اس آگ اور خون کے کھیل میں لفظی گولہ باری بھی عروج پر ہے۔ ایران کے سابق وزیرِ خارجہ منوچہر متقی نے تو ایک ایسا مطالبہ کر دیا ہے جس نے واشنگٹن کی نیندیں اڑا دی ہیں! انہوں نے تجویز دی ہے کہ امریکی اڈے پر زمینی حملہ کر کے 100 امریکی شہریوں کو یرغمال بنا کر ایران لایا جائے۔ ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے 180 اراکین نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پھاڑ کر نیا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ناظرینِ گرامی! اس جنگ کی بھاری قیمت عام شہری چکا رہے ہیں۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی ایران میں حالیہ امریکی بمباری سے 30 سے زائد شہری شہید اور 260 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
لیکن ویوورز، اب امریکا کی نظریں ایران کے ایک انتہائی پراسرار اور خفیہ ٹھکانے پر جم چکی ہیں، اور وہ ہے ‘پک ایکس ماؤنٹین’ (Pickax Mountain)۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ بہت جلد اس پہاڑ کو بموں سے اڑا دیں گے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلائی کیمرے اس پہاڑ کے چپے چپے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور جیسے ہی کوئی جوہری سرگرمی دکھی، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
ناظرین! آخر یہ ‘پک ایکس ماؤنٹین’ ہے کیا؟ مقامی زبان میں اسے ‘کوہ کلنگ گزلا’ کہا جاتا ہے، جو مشہور جوہری تنصیب نطنز کے بالکل قریب واقع ہے۔ اس پہاڑ کے اندر 100 میٹر سے بھی زیادہ گہرائی میں ایسی سرنگیں بنائی گئی ہیں کہ امریکا کا طاقتور ترین ‘بنکر بسٹر بم’ بھی ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ 2007 میں بننے والی ان سرنگوں کو حالیہ جنگ کے فوراً بعد سیل کر دیا گیا تھا۔
ویوورز! ایران کا ہمیشہ سے دعویٰ رہا ہے کہ یہاں صرف بجلی بنانے والی مشینوں کے پرزے بنتے ہیں، لیکن امریکی اور عالمی ماہرین کو شک ہے کہ اس ناقابلِ تسخیر پہاڑ کے سینے میں یورینیئم کی افزودگی اور ایٹم بم کی تیاری ہو رہی ہے۔ عالمی ایٹمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے انسپکٹرز کو وہاں جانے کی اجازت نہ ملی، تو شکوک و شبہات بڑھ جائیں گے اور یہ پوری دنیا کے لیے ایک خوفناک تشویش کا باعث بن جائے گا۔
کیا امریکا اس ناقابلِ تسخیر پہاڑ کو نشانہ بنا پائے گا؟ خطے کی اس تیزی سے بدلتی صورتحال پر ‘پکی خبر’ آپ کو ہمیشہ باخبر رکھے گا۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ اپنے میزبان راجہ واجد کو اجازت دیجئے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں