0

بھارت پر ایران کے خلاف عالمی سازش میں شامل ہونے کا الزام

ناظرین! عالمی سیاست اور جنگی محاذوں پر اس وقت جھوٹی خبروں اور اعصابی جنگ کا ایسا طوفان برپا ہے جس نے سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹا دی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز اور تفصیلی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! ایران کے خلاف اسرائیل کے جنگی عزائم تو ہمیشہ سے کھلے عام رہے ہیں، لیکن اب اس گندے کھیل میں بھارت کی انٹری نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ دی نیویارک ٹائمز کے ایک تہلکہ خیز انکشاف کے مطابق، بھارت سے شروع ہونے والی محض ایک ‘جھوٹی خبر’ نے پوری دنیا میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق غلط تاثر پھیلا دیا اور بڑے بڑے عالمی رہنماؤں کو اندھا کر دیا۔
ہوا کچھ یوں کہ 5 اگست کو ایک گمنام بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے اعلان کیا ہے کہ ایران ہر صورت جوہری ہتھیار بنائے گا! اس پوسٹ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنائی گئی ایک جعلی ایٹمی دھماکے کی تصویر بھی لگائی گئی۔ ناظرین، مزے کی بات یہ ہے کہ اس دعوے میں گرامر اور املے کی بے شمار غلطیاں تھیں، لیکن پھر بھی یہ جھوٹ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ اس پوسٹ کو فوراً ‘موساد کمنٹری’ نامی اسرائیلی اکاؤنٹ اور ایک اسرائیلی ٹی وی چینل نے بریکنگ نیوز بنا کر چلا دیا۔ بات یہیں نہیں رکی! چند گھنٹوں بعد خود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے یروشلم میں اپنی تقریر کے دوران اس جعلی خبر کو ایران کے ایٹمی بم بنانے کا ثبوت قرار دے ڈالا۔
یہ جھوٹ اڑتا ہوا امریکا پہنچا، جہاں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز، سینیٹر رک اسکاٹ اور فوکس نیوز جیسے بڑے چینلز نے اسے سچ سمجھ کر نشر کر دیا۔ لیکن جب تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ یہ سارا ڈرامہ بھارت کے ایک ایسے اکاؤنٹ نے رچایا تھا جس پر پہلے بھی اسلام مخالف جعلی خبریں پھیلانے کے الزامات تھے۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بجا طور پر اسے ایران کے خلاف ‘جھوٹ کے سیلاب’ کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔
ویوورز! اب آتے ہیں میدان جنگ کے ایک ایسے راز کی طرف جس پر سے کئی ماہ بعد پردہ اٹھا ہے۔ ایران نے پہلی بار باضابطہ طور پر یہ سنسنی خیز اعتراف کیا ہے کہ 2 مارچ 2026 کو قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران لاپتا ہونے والے ان کے 3 پائلٹ قطری افواج کی قید میں ہیں!
ناظرینِ گرامی! ایرانی فوج کی لاپتا افراد کمیٹی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ نے انٹرنیشنل ریڈ کراس (ICRC) کو ایک ہنگامی خط لکھ کر تہلکہ مچا دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ 2 مارچ کو 2 ایرانی ایس یو-24 طیاروں نے دشمن کے جدید ترین ریڈارز اور طیارہ شکن فائرنگ کو چکمہ دے کر قطر کے العدید ایئر بیس پر بمباری کا مشن مکمل کیا تھا۔ لیکن واپسی پر انہیں مار گرایا گیا، جس میں ایک پائلٹ مجید کاظمی شہید ہو گئے، جبکہ دیگر تین پائلٹ—جواد صالحی، عبدالحمید دشتیان اور عمران بہرویشیان—کو قطری افواج نے زندہ گرفتار کر لیا۔ ایران نے قطر پر جنگی جرائم کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ماہ گزرنے کے باوجود قطر نہ تو پائلٹوں سے رابطہ کرنے دے رہا ہے اور نہ ہی ان کی خیریت بتا رہا ہے، جو کہ جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ناظرین! اس کشیدگی کے بیچ سفارتی محاذ پر کیا ہو رہا ہے؟ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت صرف پاکستان اور قطر ہی وہ دو ممالک ہیں جو کشیدگی کم کرنے کی ثالثی کر رہے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے موجودہ بحران کا سارا ملبہ امریکا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکا نے 17 جون کے مفاہمتی معاہدے کی چند ہفتوں میں ہی خلاف ورزی کر دی اور مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔ تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ ایم او یو پوری طاقت اور وقار کے ساتھ کیا تھا اور ایران نے دشمنوں کے سامنے ہرگز سر تسلیم خم نہیں کیا۔
اور آخر میں ویوورز! ایک ایسی خبر جس نے پینٹاگون کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران نے امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کر کے حوالے کرنے والوں کے لیے 30 ہزار ڈالرز (یعنی 5 ارب ایرانی تومان) کے انعام کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے! ایرانی آرمی چیف امیر حاتمی نے یہ سنسنی خیز اعلان کرتے ہوئے ایک حیران کن شرط بھی رکھی ہے کہ اگر یہ کارروائی کسی “خاتون” نے انجام دی، تو اسے یہ انعام دگنا یعنی 60 ہزار ڈالر دیا جائے گا! امیر حاتمی نے امریکا کو کھلی وارننگ دی ہے کہ امریکی فوج کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں گھسنے کی قطعی اجازت نہیں، اور انہیں فوراً مشرق وسطیٰ سے نکل جانا چاہیے۔
جھوٹی خبروں سے لے کر جنگی قیدیوں اور سنگین دھمکیوں تک، اس خطے میں روزانہ ایک نیا محاذ کھل رہا ہے۔ عالمی سیاست کی ہر تہہ در تہہ کہانی اور سچی ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے سے ہمیں کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں