ناظرین! مشرق وسطیٰ کی جنگ اب ایک ایسے خطرناک معاشی اور سفارتی محاذ پر داخل ہو چکی ہے، جس نے پوری دنیا کی معیشت اور سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکا نے بالآخر ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی، سخت اور تکلیف دہ پابندیوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جسے واشنگٹن نے ‘ڈی ڈے’ کا نام دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پوری دنیا کو خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران سے تعاون کرے گا، اسے امریکی عتاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا نے ایران کو ترسیلات زر کی ادائیگیوں کے لیے دیے گئے تمام لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔ اسکاٹ بیسینٹ نے انتہائی غرور سے کہا کہ اقتصادی ناکہ بندی اور بحری محاصرے کے بعد امریکا کو مزید کسی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ ایرانی نظام خود ہی گھٹنے ٹیک دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو معاشی سہارا دینے والا ہر ملک عالمی تنہائی کا شکار ہوگا، اور یو اے ای کی طرح سب کو ایران سے لین دین ختم کرنا پڑے گا ورنہ انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ یہ معاشی محاصرہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے پر مجبور کر دے گا۔
ناظرینِ گرامی! امریکی پابندیوں اور دعووں کے جواب میں ایران کی طرف سے بھی شدید ترین ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے میڈیا سینٹر نے اپنے بیان میں ٹرمپ کو جھوٹا صدر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی فوجی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور امریکی عوام کی نظر میں ساکھ بحال کرنے کے لیے گندے میڈیا کھیل کھیل رہے ہیں۔ قالیباف نے دراصل یہ کہا تھا کہ ایران نے فوجی جنگ میں امریکا کو بدترین شکست دی ہے اور اسی شرمندگی کو چھپانے کے لیے امریکا اب ذہنی اور اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔ قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اب اس معاشی پوزیشن میں ہی نہیں رہا کہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو محدود کر سکے۔
ویوورز! نئی امریکی پابندیوں پر ایرانی حکومت بھی ڈٹ کر کھڑی ہو گئی ہے۔ ایرانی وزیر معیشت سید علی مدنی زادہ نے امریکا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پابندیوں کا مکمل مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکا کسی صورت ان کی مالیاتی شریانیں نہیں کاٹ سکتا۔ دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بھی اعتراف کیا کہ وہ معاشی مشکلات سے انکار نہیں کرتیں، لیکن درست فیصلوں اور قومی اتحاد کے ساتھ وہ اس مشکل مرحلے سے بھی گزر جائیں گے اور دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیں گے۔
ناظرین! اس عالمی کشیدگی میں چین نے ایک بار پھر اپنا وزن ایران کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ چین نے نہ صرف ایران پر امریکی پابندیوں کو مسترد کیا ہے بلکہ اپنے مفادات اور حقوق کی حفاظت کا نعرہ بھی بلند کر دیا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بیجنگ ایران کے ساتھ اپنی تجارت اور تیل کی خریداری ہر حال میں جاری رکھے گا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کے بحران کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام ہونا چاہیے اور چین ہمیشہ تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ کا بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر بھی زور دیا۔
ویوورز! ایران اور امریکا کی اس گھمسان کی جنگ میں پاکستان نے بھی ہار نہیں مانی اور خطے کو تباہی سے بچانے کے لیے امن کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، ایران پہنچنے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے محسن رضائی، اسپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ و داخلہ سے طویل اور اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں کشیدگی کو روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے جلد خاتمے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایرانی قیادت نے تنازعات کے پرامن حل اور سفارتی سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔
کیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں آبنائے ہرمز کھولنے میں کامیاب ہو سکیں گی، یا امریکا کی نئی پابندیاں خطے کو ایک اور بڑی جنگ میں دھکیل دیں گی؟ اس حوالے سے ہر سچی اور ‘پکی خبر’ آپ تک پہنچتی رہے گی۔ ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں اور اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

