0

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان اعصابی جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

ناظرین! مشرق وسطیٰ کی اعصابی جنگ اب ایک پراسرار اور خوفناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں میزائلوں سے زیادہ افواہوں اور جھوٹی خبروں کے حملے ہو رہے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! خطے میں ایک ایسی پراسرار طاقت دن رات کام کر رہی ہے جو ایران کے نام پر جھوٹ کا ایک ایسا بازار گرم کیے ہوئے ہے جس کا مقصد مسلم ممالک کو آپس میں لڑانا اور خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنا ہے۔ بظاہر اس پراسرار طاقت کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ محسوس ہوتا ہے، اور اب ایک تازہ ترین اور لرزہ خیز افواہ نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ امریکی سیکرٹ سروس اور میڈیا میں یہ جھوٹی خبر پھیلائی گئی کہ ایران، ڈونلڈ ٹرمپ کے چھوٹے بیٹے ‘بیرن ٹرمپ’ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے اور اس کا ذکر مبینہ طور پر ایرانی سرکاری ٹی وی پر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے لبنانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور اسے ایک سوچی سمجھی جھوٹی سازش قرار دیا ہے۔
ناظرین! اس کشیدہ ماحول میں امن کی واحد کرن قطر کی سفارتکاری ہے۔ قطری وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی تہران پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی ملاقات ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور محسن رضائی سے ہوئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگیں صاف کرنے کا مشترکہ منصوبہ زیرِ بحث آیا ہے۔ ملاقات کے بعد عباس عراقچی نے سخت لہجے میں کہا کہ سفارتکاری دباؤ کے ذریعے ممکن نہیں، امریکا کو احترام سے بات کرنی ہوگی اور ایران کے حقوق تسلیم کرنے ہوں گے۔ وہیں محسن رضائی نے قطر کے وزیراعظم کے سامنے دو ٹوک اعلان کر دیا ہے کہ اگر امریکا نے کوئی جارحیت کی، تو ایران امریکی مفادات کو ایسا نقصان پہنچائے گا جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، اور آبنائے ہرمز تب تک نہیں کھلے گی جب تک امریکا ایرانی شرائط پوری نہیں کرتا۔
ویوورز! دوسری جانب واشنگٹن میں بیٹھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حالت اتنی پتلی ہو چکی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں تک نہیں دے پا رہا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف کر دیا ہے اور وہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزر رہا ہے۔
ان دعووں کی تصدیق امریکی سینٹ کام نے بھی ایک تفصیلی رپورٹ میں کی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق، آبنائے ہرمز میں اس وقت 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو ایرانی بحری ناکہ بندی توڑنے اور جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے دن رات ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایرانی بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور اب امریکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز ایرانی بندرگاہ میں نہ جا سکتا ہے اور نہ نکل سکتا ہے۔ سینٹ کام نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے احکامات نہ ماننے والے 3 جہازوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔
ناظرین! اس امریکی دباؤ کو مزید بڑھانے کے لیے پینٹاگون نے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کی واپسی کے بعد اب امریکی بحریہ اپنا ایک اور دیوہیکل طیارہ بردار جہاز ‘یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ’ 5 ہزار اہلکاروں کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کر رہی ہے۔ عملے کو کم از کم 7 سے 8 ماہ طویل ڈیوٹی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا خطے میں طویل قیام کا ارادہ رکھتا ہے۔
ویوورز! اب بات کرتے ہیں اسرائیل کی، جہاں جنگ کے بخار نے اسرائیلی معیشت کا کچومر نکال دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے خود اعتراف کیا ہے کہ مسلسل آپریشنز اور ریزرو فوجیوں کے اخراجات کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو 40 ارب شیکل کے ہوشربا بجٹ خسارے کا سامنا ہے، جس سے فوج کی جنگی تیاریاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
اور اپنی اسی اندرونی ناکامی اور کرپشن کو چھپانے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک نیا انتخابی ڈرامہ رچا لیا ہے۔ سابق امریکی سفیر فرانسس جے ریکارڈون کے مطابق، نیتن یاہو سیاسی فائدے کے لیے ترکیہ کے صدر طیب اردوان کو اسرائیل کا ‘نیا دشمن’ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ تل ابیب کی سڑکوں پر بڑے بڑے بل بورڈز لگا دیے گئے ہیں جن میں اردوان کو ایران اور حزب اللہ کے ساتھ کھڑا دکھایا گیا ہے تاکہ اسرائیلی عوام کو خوف میں مبتلا کر کے ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔
خطے کی یہ گھمسان کی اعصابی اور پراکسی جنگ اب کیا نیا رخ اختیار کرے گی؟ ہر سچی اور ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں