0

ایران کا دوٹوک اعلان: امریکا نے جنگ شروع کی، اب انجام بھی بھگتنا ہوگا

ایران پر امریکا کے تازہ ترین حملوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق امریکی بمباری سے اب تک 30 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہرمزگان کے شہر سیرک میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک بچے سمیت 5 بے گناہ شہری شہید ہو گئے۔ اس کے علاوہ مغربی صوبے کرمانشاہ اور لاوان جزیرے پر حملوں میں پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورس کے 7 اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ اہواز، چابہار اور عسلویہ کے اہم گیس مراکز پر بھی شدید دھماکے سنے گئے ہیں۔

ان حملوں کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے واشنگٹن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اب اس جہنم سے کبھی نہیں نکل پائے گا جو اس نے اپنے لیے خود بنائی ہے۔ ایران کی جوابی طاقت نے پینٹاگون کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ایران کے پاس فاتح، ذوالفقار، سجیل اور خرم شہر سیریز کے علاوہ 2500 کلومیٹر تک مار کرنے والے سومار اور حویژہ جیسے کروز میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جس کے بعد اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود تمام امریکی اڈے اب براہِ راست ایران کے نشانے پر ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دیگر ممالک کو دھمکی دی ہے کہ جو ملک بھی ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے اور آمدنی حاصل کرنے میں مدد دے گا، امریکا اس پر بھی سخت ترین پابندیاں عائد کر دے گا۔ ادھر مشرقِ وسطیٰ کی اس گھمسان کی جنگ نے عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 95.20 ڈالرز اور امریکی خام تیل کی قیمت 90.77 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس سے دنیا بھر میں تیل کے سنگین بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں