ناظرین! خلیج فارس کے پانیوں میں لگی آگ اب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑ چکی ہے اور میزائلوں کی بارش نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کے خلاف تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج میں آبنائے ہرمز کے ممنوعہ علاقے سے گزرنے والے 2 امریکی جنگی جہازوں اور 8 آئل ٹینکروں کو بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں رہی، پاسداران انقلاب نے ایرانی آئل ٹینکروں پر حملے کا بدلہ لیتے ہوئے اردن کے الازرق میں واقع امریکی فوجی اڈے پر بھی میزائلوں کی بارش کر دی ہے اور امریکی طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، امریکی حکام اور سینٹکام نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مربوط دفاعی نظام نے تمام ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ اردنی فوج کے مطابق ایران نے 20 میزائل داغے جن میں سے 18 کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔ دوسری جانب، امریکا نے انتہائی جارحانہ قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے 5 خام تیل بردار بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور جنگی جہازوں پر حملے کی کوشش کے جواب میں ایرانی ٹینکرز کو اسی طرح نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔
ناظرین! مشرق وسطیٰ کا ایک اور محاذ بھی بری طرح سلگ اٹھا ہے۔ سعودی عرب میں حوثی جماعت انصار اللہ کے حملے میں 73 افراد کے زخمی ہونے کے بعد، اب سعودی اتحادی فورسز نے یمن پر قیامت خیز بمباری شروع کر دی ہے۔ سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے صوبے مارب، الجوف اور تعز میں تابڑ توڑ فضائی حملے کیے ہیں۔ یمنی ٹی وی کے مطابق الجوف اور تعز میں 5، 5 جبکہ مارب کے علاقے صرواح میں 10 فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس نے خمیس مشیط سمیت مختلف شہروں میں خطرے کے الرٹ جاری کر دیے ہیں، اور سعودی اتحاد کا واضح اعلان ہے کہ حوثیوں کی جانب سے شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کا اس سے بھی سخت اور بھیانک جواب دیا جائے گا۔
ویوورز! اب چلتے ہیں سفارتی محاذ کی جانب جہاں اسرائیل کو ایک بہت بڑا اور تاریخی جھٹکا لگا ہے۔ برطانیہ کے بعد کینیڈا، فرانس، اسپین اور ناروے سمیت 12 بڑے ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی کی حمایت کر دی ہے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہم کب تک اسرائیل مخالف کہلائے جانے کے ڈر سے خاموش رہیں گے؟ عملی اقدامات کے بغیر دو ریاستی حل کی بات بے معنی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن اس فیصلے سے بوکھلا کر اسرائیل نے انتہائی سخت ردعمل دیتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا ہے اور برطانیہ کو غزہ رابطہ مشن سے بھی نکال دیا ہے۔
اور آخر میں ناظرین! امریکا اور ایران کے درمیان اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کی جڑیں ہلا دی ہیں۔ خلیج فارس کے ان جنگی حالات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ امریکی خام تیل بھی تقریباً 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
کیا یہ جنگ اب پوری دنیا کو ایک بڑے معاشی بحران میں دھکیل دے گی؟ عالمی منظرنامے کی ہر سچی اور ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

