0

آنکھوں کی روشنی سے غزہ کے زخمیوں تک، المصطفیٰ ٹرسٹ کی خدمتِ انسانیت کی داستان

ناظرین! انسانیت کی خدمت اور دردِ دل رکھنا ہی اصل زندگی ہے۔ اس خود غرض دنیا میں کچھ ایسے ادارے بھی ہیں جو بغیر کسی رنگ، نسل یا مذہب کی تفریق کے، صرف انسانیت کی بنیاد پر بے بس اور لاچار لوگوں کا ہاتھ تھام رہے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی اور معلوماتی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! آج ہم بات کریں گے ایک ایسے عظیم فلاحی ادارے کی جس کا نیٹ ورک دنیا کے 24 ممالک میں پھیلا ہوا ہے—المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ۔ اس ادارے کا ایک ہی مقصد ہے: ایسے لوگوں کے آنسو پونچھنا جنہیں رلانے والے تو بہت ہیں لیکن سہارا دینے والا کوئی نہیں۔ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کی سب سے بڑی اور منفرد شناخت اس کا ‘شعبہ طب’ ہے، جس میں آئی ہسپتال کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ناظرین، یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ یہ ٹرسٹ اب تک ڈھائی لاکھ لوگوں کی آنکھوں کا مفت آپریشن کر کے انہیں بینائی کا انمول تحفہ دے چکا ہے۔ ہزاروں سفید موتیے کے آپریشن کیے گئے ہیں، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہسپتال کی پرچی سے لے کر آپریشن، ادویات، لینز اور عینکوں تک کے تمام مراحل مکمل طور پر مفت ہوتے ہیں۔
اس سارے عظیم کام کا کریڈٹ میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے محترم عبدالرزاق ساجد کو جاتا ہے۔ انہوں نے 2006 میں اس ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور ایک چھوٹے سے شہر سے خدمت کا خواب دیکھ کر آج ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکا تک اس کا جال بچھا دیا ہے۔ ‘روشنی سب کے لیے’ کے سلوگن کے تحت یہ ادارہ پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا، سری لنکا، یمن، شام، افغانستان اور برما سمیت کئی غریب ممالک میں مسلسل فری آئی کیمپس لگا رہا ہے۔ المصطفیٰ ویلفئیرٹرسٹ کےچئیرمیں عبدالرزاق ساجد اس پراجیکٹ کو اس فلاحی منصوبے کوکس نظرسے دیکھتےہیں لگے ہاتھوں یہ بھی جان لیتےہیں

ناظرینِ گرامی! المصطفیٰ ٹرسٹ صرف آنکھوں کے علاج تک محدود نہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد جب غزہ پر قیامت ٹوٹی اور صیہونی طاقتوں نے ہر ہسپتال تباہ کر دیا، تو المصطفیٰ کے بانی عبدالرزاق ساجد اپنے وفد کے ہمراہ مصر پہنچے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور ریڈ کریسنٹ کے ساتھ مل کر رفح اور کریم شالوم بارڈر کے راستے لاکھوں پاؤنڈ کا امدادی سامان غزہ پہنچایا۔ اور سب سے بڑا کارنامہ یہ کہ 9 جولائی 2024 کو خان یونس کے مقام پر ایک فیلڈ ہسپتال قائم کیا جہاں آج بھی روزانہ 500 فلسطینیوں کا علاج ہو رہا ہے۔
ویوورز! لاہور کے دل مزنگ میں 2020 میں المصطفیٰ آئی ہسپتال قائم ہوا، جو صرف چار سال میں 15 ہزار سفید موتیے کے آپریشن کر کے شہر کا سب سے بڑا مفت آئی ہسپتال بن چکا ہے۔ اسی طرح اٹک اور مانسہرہ میں بھی ان کے جنرل ہسپتال موجود ہیں۔ مزنگ روڈ پر المصطفیٰ دسترخوان روزانہ سینکڑوں افراد کو 3 وقت کا مفت کھانا فراہم کرتا ہے۔ سردیوں میں گرم کپڑے، رمضان میں راشن اور قرآن حفظ کرنے والے طلبہ کے لیے اسکالرشپس بھی اس ادارے کا طرہ امتیاز ہیں۔
اور آخر میں ناظرین! کشمیر کے شہر ڈڈیال میں المصطفیٰ آئی ہسپتال کی ایک نئی اور عظیم الشان عمارت اپنے تکمیلی مراحل میں ہے۔ ذرا تصور کیجیے اس غریب ماں کا جس کے بچے کی آنکھوں کی روشنی جا رہی ہو، یا اس بزرگ کا جس کے لیے دنیا اندھیرے میں ڈوب رہی ہو! یہ ہسپتال ان سب کے لیے امید کی ایک نئی کرن بنے گا۔ ایسے عظیم منصوبے صرف عمارتوں سے نہیں، انسانوں کے تعاون سے بنتے ہیں۔ ہماری آپ سے اپیل ہے کہ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ آپ کا ایک قدم کسی کی دنیا کو دوبارہ روشن کر سکتا ہے۔
کشمیریوں نے اس فلاحی منصوبے کو علاقے کےلوگوں کیلئے بہت بڑٰی نعمت قراردیاہے،،منصوبے کی تعمیرکے لئے برمنگھم کےمئیر خاص طورپر کشمیر تشریف لائے،،انہوں نے اس منصوبے کیلئے بھرپور حصہ ڈالا،،

ناظرین ۔۔ویلاگ کےآخرمیں المصطفیٰ ویلفئیرٹرسٹ کےپاکستان اوربیرون ملک موجوددفاترکےرابطہ نمبردئیے گئے ہیں انسانیت کی فلاح کے ان کاموں میں ہم سب کو دست و بازو بننا چاہیے۔ ایسے معلوماتی ویلاگز اور ہر ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں