0

چین کا دوٹوک پیغام، سیاسی محاذ آرائی سے ایرانی جوہری مسئلہ حل نہیں ہو سکتا

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک اور ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا .۔۔اردن بھی ایرانی حملوں کا پہلا نشانہ بن گیا۔۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اردن میں قائم ‘الازرق’ فضائی اڈے پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اس اڈے پر امریکی فوجی اہلکار اور جنگی طیارے موجود ہونے کی وجہ سے ایران اسے ایک اہم امریکی مرکز سمجھتا ہے۔ اردنی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ رات گئے اور بدھ کی صبح مجموعی طور پر 20 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے 18 کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ 2 میزائل کھلے علاقوں میں گرے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں امریکی ایف 35، ایف 16 اور ایف 15 جنگی طیاروں کے حفاظتی شیلٹرز اور دیکھ بھال کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ ادھر واشنگٹن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ مربوط فضائی دفاعی نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔
سفارتی محاذ پر چین نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) میں چین کے مستقل نمائندے لی سونگ نے ایران کے خلاف امریکی حمایت یافتہ قرارداد کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ آف گورنرز میں سیاسی محاذ آرائی سے ایرانی جوہری مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ جون میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکرات کا جو دروازہ کھلا ہے، اسے بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ چینی نمائندے نے یاد دلایا کہ امریکا اور اسرائیل نے آئی اے ای اے کے تحت آنے والی پرامن جوہری تنصیبات پر دو بار حملے کیے جو تعاون میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ ہیں۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اردن کے سابق وزیرِ داخلہ اور سیاستدان سمیر حبشنہ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ خلیج کی یہ جنگ کسی فریق کی فیصلہ کن فتح کے بجائے آخر کار سمجھوتے پر ہی ختم ہوگی۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہیں کر سکے، کیونکہ نہ تو ایران کا جوہری پروگرام ختم ہوا، نہ میزائل سسٹم تباہ ہوا اور نہ ہی ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔ اگرچہ ایران کو قیادت کے ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس کی مزاحمت تاحال برقرار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں