لیبیا کےشہرزنتان میں اپنے ہی گھرمیں گولیوں سے قتل ہونےوالے سیف الاسلام قذافی کو ملک میں معمرقذافی کاسیاسی جانشین سمجھاجاتاتھا وہ اپنے گھرکےباغ میں موجودتھے کہ چارنامعلوم افراد نے گھس کرگولیاں ماریں اورفرارہوگئے،،واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دےدیاگیاہے53سالہ سیف الاسلام قذافی اپنے والد لیبیا کےسابق حکمران معمر قذافی کے دور میں ملک کے خارجہ و معاشی تعلقات میں سرگرم رہے ۔وہ لندن کے لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ اور انگریزی میں ماہرتھے ۔انہیں کئی بار والدکا تختہ الٹ کر قبضہ کرنے کی پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے مسلسل انکارکیا۔2011 کی عوامی بغاوت کے دوران بھی وہ اپنے والد کے ساتھ کھڑے رہے 2011 کے لیبیا انقلاب کے بعد انہیں گرفتار کرکے زنتان میں سات سال قید میں رکھا گیا، 2015 میں انہیں سزائے موت سنائی گئی ۔ 2017 میں عمومی معافی کے تحت رہائی ملی، ۔ 2021 میں انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا، لیکن انتخابات کمیشن نے انہیں نااہل قرار دے دیا، جو سیاسی بحران میں مزید اضافہ کا سبب بنا۔ سیف الاسلام کے بعد قذافی خاندان کی سیاسی وراثت واضح طور پر کسی ایک فرد کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ معمر قذافی کے دیگر بچے آجکل براہِ راست سیاست میں فعال نہیں ہیں، ۔ ان کے مخالفین نے ہمیشہ انہیں آمرانہ پالیسیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اور سیف الاسلام کے سیاسی عزائم پر تنقید کا نشانہ بنایا، جس نے انہیں عوامی سطح پر بہت محدود کردیا تھا۔ سیف الاسلام کا قتل لیبیا کے اندر طاقت کے توازن کو مزید غیر مستحکم کر سکتا ہے، خاص طور پر ان گروپوں کے درمیان جو قذافی دور کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں وہ متحدہ لیبیا کےحامی تھے اوریونٹی حکومت کاحصہ ،،ان کی موت کےبعد لیبیامیں سیاسی تقسیم مزید گہری ہوجائےگی اور فوجی کمانڈر خلیفہ حفترکاگروپ مضبوط ہوجائےگا
