0

آزاد کشمیر کے موجودہ بحران میں سب سے بڑی قیمت عام آدمی ادا کر رہا ہے، جس کی زندگی سیاست، احتجاج اور کریک ڈاؤن کے درمیان بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔

ناظرین ۔۔
آج ہم آزادکشمیرمیں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی ردعمل پربات نہیں کریں گے،،دونوں فریقین کی وجہ سے عام آدمی کس حالت میں ہے کس تکلیف میں ہے ،،آج ہم اس کی بات کریں گے ،، اس عام آدمی کی ،عام کشمیری کی ،،جو اس صورتحال سے بری طرح متاثرہورہاہے ،،
ناظرین ۔۔۔آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا بوجھ عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق احتجاج، کریک ڈاؤن، سڑکوں کی بندش، انٹرنیٹ/موبائل معطلی، کاروباری تعطل اور گرفتاریوں نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں، سینکڑوں گرفتاریوں، زخمیوں، ATM/بینکنگ رکاوٹوں، ایندھن کی قلت اور راولاکوٹ/مظفرآباد سمیت مختلف علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کےمتاثرہونے کی اطلاعات ہیں ،،
ناظرین ۔۔۔12نشستوں کا معاملہ سیاسی ہے ، اس سیاستی مسئلے کی وجہ سےموجودہ بحران میں سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار مزدور، ٹیکسی ڈرائیور، دکاندار، مریض، طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، اور دور دراز علاقوں کے خاندان ہو رہے ہیں۔ اس وقت آزادکشمیرمیں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہے ،، خاندان ایک دوسرے سے رابطہ نہیں کر پا رہے ،،آن لائن کاروبار، فری لانسرز، ایزی پیسہ/جاز کیش جیسی ادائیگیاں، آن لائن کلاسز اور سرکاری رابطہ متاثر ہوچکی ہیں ،،بیرونِ ملک کشمیری خاندان اپنے گھروں سے رابطے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں ،،سب سے بڑانقصان یہ ہورہاہے کہ اس صورتحال میں افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں کا بازارگرم ہوچکاہے،، رپورٹس کے مطابق کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل معطلی نے روزمرہ معمول کو شدید متاثر کیا۔
دوسری جانب ،،،کشیدگی کےباعث بینک بندہیں ، اے ٹی ایم بند ہیں ،، روزانہ خرچ، ادویات، سفر، ہنگامی علاج سب مشکل ہو چکاہے سب سےزیادہ تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز اور دیہاڑی دار سب متاثر ہورہےہیں دوسری جانب چھوٹے دکاندار کے پاس ڈیجیٹل پیمنٹ بھی بند، نقدی بھی کم — یعنی کاروبار تقریباً منجمد ہوچکاہے،،اس کےبعد تعلیمی نقصان کی باری آتی ہے،، سکول بند ہونے کی وجہ سے ،،،بچوں کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے ،،امتحانات، داخلے، ٹرانسپورٹ، اساتذہ کی حاضری سب متاثر ہونا شروع ہوچکےہیں،،دیہی علاقوں میں پہلے ہی تعلیمی نقصان زیادہ ہوتا ہے، بندش اسے مزید بڑھا دیتی ہے
ناظرین ۔۔۔کہنے کو یہ ایک اعلان ہوتاہے کہ کل شٹرڈاون ہڑتال ہوگی ،،لیکن شٹر ڈاؤن اور سڑک بندش کا سب سے بڑا نقصان دیہاڑی دار کو ہوتا ہے سبزی، آٹا، دودھ، ادویات اور ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں ٹرانسپورٹ بند ہونے سے مریض اور مسافر پھنس جاتے ہیں
رائٹرز سمیت متعدد رپورٹس میں روزمرہ مزدوری کرنے والوں، ٹیکسی ڈرائیوروں اور مقامی تجارت پر شدید دباؤ کا ذکر موجود ہے۔
اس وقت کشیدگی کی صورتحال ہے، ہرطرف خوف، بے یقینی اور نفسیاتی دباؤ چھایاہواہے جس سے عام شہری ، عام کشمیری بری طرح دباو کا شکارہے ، پھنساہواہے ،،،اس کیفیت میں ہربندہ حکومت کو موردالزام ٹھہراتاہے ،،جب سڑکیں بند ہوں، گرفتاریاں ہوں، انٹرنیٹ بند ہو اور خبر واضح نہ ہو تو عام شہری مسلسل ذہنی دباؤ میں رہتا ہے ،،والدین بچوں، مریضوں اور روزگار کے بارے میں پریشان رہتے ہیں معاشرہ “دو حصوں” میں بٹنے لگتا ہے: ایک طرف ریاستی رٹ، دوسری طرف عوامی غصہ ،یہ عوامی غم وغصہ جب جمع ہوکرپھٹتاہے توسب کچھ درہم برہم کردیتاہے ،،
ناظرین ۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں مسئلہ صرف ایک دن کے احتجاج یا ایک بندش کا نہیں۔ یہ اعتماد کے بحران، نمائندگی کے تنازع، ریاستی طرزِعمل، اور عوامی شکایات کے جمع ہونے کا نتیجہ لگتا ہے۔ موجودہ رپورٹس میں خاص طور پراحتجاجی کال اور حکومتی کریک ڈاؤن ،،گرفتاریاں اور مقدمات ،،12 نشستوں/سیاسی نمائندگی کے معاملے پر تنازع ،،سڑکوں، بازاروں اور رابطہ نظام کی بندش ،،عوامی سطح پر معاشی و سیاسی محرومی کا احساس
جیسے عوامل نمایاں نظر آتے ہیں۔
ناظرین ،،اگر واقعی عام آدمی کو ریلیف دینا مقصد ہے تو حل صرف طاقت یا صرف دھرنے سے نہیں نکلے گا۔ اس کیلئے تین سطحوں پر فوری، درمیانی اور سیاسی حل درکار ہے سب سے پہلے فوری ہنگامی اقدامات کئے جائیں ،، — 24 سے 72 گھنٹے میں ان کااعلان کیاجائے،،انٹرنیٹ/موبائل کی مرحلہ وار بحالی کی جائے،،کم از کم ہسپتالوں، ضلعی ہیڈکوارٹرز، بینکنگ، میڈیا، ایمرجنسی سروسز کیلئے فوری بحالی کی جائے تاکہ وہاں پہلے سے تکلیف کا شکار عوام کو سکھ کاسانس مل سکے،،مکمل بلیک آؤٹ کے بجائے محدود/مانیٹرڈ بحالی کا ماڈل اپنایا جائے اسی طرح حکومت، انتظامیہ اور احتجاجی قیادت مل کر اعلان کریں کہ،،بینک مخصوص اوقات میں کھلیں گے،،ATM کیش سے بھرے جائیں گے،،ایمبولینس، ادویات، دودھ، آٹا، ایندھن اور مریضوں کی گاڑیوں کو مکمل استثنا حاصل ہوگا، مطلب زندگی کورواں دواں رکھنے کیلئے اقدامات شروع کئے جائیں ، کیونکہ زندگی اور حکومت نظام ایسے نہیں چلےگا،،،سی طرح سکولوں کوبھی کھولاجائے،،اگر حالات خراب ہیں تو 7 دن کا تعلیمی ریسکیو پلان دیاجائے،،امتحانات ملتوی یا ری شیڈول کئےجائیں ،،سکول کھلنے تک اساتذہ کو مختصر ہوم ورک/پرنٹ شیٹس سسٹم دیا جائے ،،بورڈ/محکمہ تعلیم روزانہ ایک واضح اپڈیٹ دے
دوسری جانب حکومت کےکرنے کالازمی کام یہ ہےکہ گرفتار شدگان اور لاپتہ افراد کی شفاف فہرست مرتب کرے ،،کتنے گرفتار؟ کہاں رکھے گئے؟ کس مقدمے میں؟ یہ فہرست پبلک نہ بھی ہو تو عدالت/پارلیمانی کمیٹی/انسانی حقوق کمیشن کے سامنے رکھی جائےیہ قدم کشیدگی کم کرنے کیلئے بہت اہم ہوگا۔ اس سے حالات معمول پرآجائیں گے ، لوگ ری لیکس ہوجائیں گے ، توبات چیت کرنا آسان ہوگا
ناظرین میری تجویز یہ ہےکہ 7 سے 14 دن کا ڈی-ایسکلیشن فارمولا طے کیاجائے،،دو طرفہ جنگ بندی” طرز کا سیاسی فریم ورک جس میں حکومت اور ایکشن کمیٹی دونوں 7 دن کیلئے اس بات پراتفاق کریں کہ حکومت مزید طاقت کا استعمال روکے گی ،،ایکشن کمیٹی شٹر ڈاؤن/پہیہ جام کو محدود کرے گی ،،اور دونوں طرف سے اشتعال انگیز بیانات بند ہوں اسی طرح غیر جانبدار مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے،،جس میں آزاد کشمیر بار کونسل یا سینئر وکلا ،،تاجر نمائندے ،،علماء/سول سوسائٹی ،،ایک ریٹائرڈ جج یا غیر جانبدار آئینی ماہر ،،،حکومت اور ایکشن کمیٹی کے نامزد نمائندے،،شامل ہوں۔
ناظرین ایک بات یاد رکھیں ،،،ایک ہی نشست میں سب کچھ حل نہیں ہوگا۔یہ معاملات ایک نشست میں سیدھے نہیں ہوں گے،، ایجنڈا 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے توپھراس کے بہترین نتایج سامنے آسکتےہیں،،
1. فوری انسانی ریلیف: انٹرنیٹ، گرفتاریاں، بازار، سکول، بینک
2. سیاسی تنازعات: نشستوں، نمائندگی، انتخابات، اختیارات
3. معاشی و انتظامی مطالبات: بجلی، آٹا، ٹیکس، مقامی حقوق
دوسری جانب متنازع مطالبات پر ٹائم باؤنڈ کمیشن بنایاجائے ،مثال کےطورپرً 12 نشستوں یا نمائندگی کے تنازع پر،،30 دن میں فیکٹ فائنڈنگ ،،60 دن میں سفارشات ،،،90 دن میں قانون سازی/سیاسی فیصلہ کاعمل شروع کیاجائے،،اسی طرح اگر ہلاکتیں، زخمی، فائرنگ یا زیادتی کے الزامات ہیں تو ان کی جوڈیشل انکوائری ہو۔جب تک یہ نہیں ہوگا، عوامی غصہ کم نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں