0

افغانستان میں سرکاری ملازمین اور فوجی اہلکاروں کیلئے اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی

افغانستان میں سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کے اہلکاروں کو بدھ کے روز سے  اپنے دفاتر میں اسمارٹ فون لانے سے روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد متعدد سرکاری اداروں کو متبادل ذرائع اپنانے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور حکام نے واٹس ایپ کے بجائے عام موبائل کالز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ حکم افغانستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا تاہم اس کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔

سرکاری نمائندوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم پانچ صوبوں میں آٹھ سرکاری ملازمین، پولیس اہلکاروں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد نے پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔

اخبار کے مطابق دایکُندی صوبے کے کمیونیکیشن افسر خالد احمد فاضلی نے کہا کہ ‘ہمیں احکامات موصول ہو چکے ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے‘۔

ایک اور صوبائی عہدیدار اور سپریم کورٹ کے ترجمان نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حکم کی تصدیق کی۔

آن لائن گردش کرنے والے حکم نامے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے اسمارٹ فون توڑ دیے جائیں گے اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں