ناظرین۔۔
ایران امریکا معاہدہ کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے۔۔19جون کوسویٹرزلینڈ کےشہر برگن اسٹاک میں بڑٰ ی بیٹھک ہوگی جس کامیزبان پاکستان ہوگااور پاکستان کی ثالثی اورمیزبانی میں اس تاریخی معاہدے پردستخط کئے جائیں گے۔۔اس معاہدے سے اسرائیل واحد ملک ہےجوجل بھن کرکباب بناہواہے اوراس کوشش میں ہےکہ کسی طرح معاہدہ سبوتاژہوجائے۔۔۔
معاہدہ یقینا اسرائیل کےحق میں نہیں بلکہ ایران کےحق میں ہے ،یہی وجہ ہے امریکا نے اسرائیل کو معاہدے دکھانےسے صاف انکارکردیاہے،، امریکا نے ایران سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی دستاویز اسرائیل کو دکھانے سے انکار کر دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے امریکا سے مفاہمتی یادداشت کی دستاویز دکھانےکی درخواست تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے صاف انکار کر دیا گیا۔امریکی حکام نے اسرائیل کو مکمل بریفنگ دی اور دستاویز تک رسائی نہیں دی تاہم ایران سے متعلق امریکی معاہدے پر اسرائیل کو آگاہ رکھا گیا مگر متن شیئر نہیں کیا گیا۔صدر ٹرمپ یواےای کے صدر سے ملاقات کے بعد گفتگو میں کہا کہ ایران مذاکرات مکمل کرکےنارمل ریاست بننا چاہتا ہے ایران کیساتھ معاہدے کا متن سرکاری طورپر جاری کریں گے بہت جلد ایران معاہدے کا ایک ایک لفظ سامنے لاؤں گا۔امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے اتوار کو معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں، اس معاہدے کا متن رواں ہفتے جاری کر دیا جائے گا۔
ناظرین ۔۔ امریکی حکومت نے ایک قانونی دستاویز میں انکشاف کیا ہے کہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی گروک ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں استعمال کی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 15 جون کو جمع کرائی گئی قانونی دستاویزات میں امریکی محکمۂ انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرنے والے گیس ٹربائنز کے خلاف دائر ماحولیاتی مقدمہ امریکی قومی، اقتصادی اور توانائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔دستاویزات میں کہا گیا کہ یہ انفرااسٹرکچر ایسی مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سپورٹ کرتا ہے جو امریکی فوجی آپریشنز میں استعمال ہو رہی ہے۔اس دعوے کے حق میں امریکی محکمۂ دفاع کے اے آئی پروگرام کے سربراہ کیمرون اسٹین لے کا حلفیہ بیان پیش کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ گروک کو امریکی فوج کے پروجیکٹ میون میں استعمال کیا جا رہا ہے۔بیان کے مطابق پروجیکٹ میون کے اسمارٹ سسٹمز نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران 96 گھنٹوں میں 2 ہزار مختلف اہداف پر 2 ہزار سے زائد ہتھیار استعمال کرنے میں امریکی افواج کی مدد کی۔کیمرون اسٹین لے نے اپنے بیان میں گروک کے سرکاری ورژن کو فوجی کارروائیوں میں آپریشنل کارکردگی بڑھانے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔۔پہلے ایک امریکی کمپنی اینتھروپک کےسوفٹ وئیرکلاڈ کواستعمال کرنے کی خبریں آئی تھیں اوراب ایلون مسک کےاے آئی سوفٹ چیٹ بوٹ گروک کواستعمال کرنے کی خبریں آرہی ہیں ،ایران کےخلاف جنگ کایہ نیا پہلوہے اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے مستقبل میں جنگیں اے آئی کی مددسے لڑی جائیں گی
ناظرین۔۔۔ جی سیون ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران امریکا معاہدے کی حمایت کرتے ہیں، معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہےکہ بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں سے بنا پابندی یا ٹول آمدورفت عالمی تجارت کی بنیاد ہے۔مشترکہ بیانیے میں مزید کہا گیا ہےکہ لبنان میں فوری اور مضبوط جنگ بندی اور لبنانی قیادت کی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنےکی کوششوں کی بھی حمایت کرتے ہیں۔اس کے علاوہ جی سیون ممالک نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور توانائی ذخائر میں اضافےکے عزم کا اظہار بھی کیا
ناظرین۔۔ ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے کہا ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی 84 مرتبہ خلاف ورزی کی۔بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے باوجود صہیونی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں بند نہ کیں تو اسے ایران کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ناظرین ۔۔آخرمیں ایک بڑٰی ڈویلپمنٹ آپ سے شئیرکریں گے۔۔ غیر ملکی خبرایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران معاہدے میں 300 ارب ڈالر کانجی سرمایہ کاری فنڈ شامل ہے۔خبرایجنسی کے مطابق فنڈ کا مقصد ایران میں توانائی، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔خبرایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 150 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی یقین دہانی پہلےہی ہوچکی ہے، معاہدے کے بعد ایران کو تیل کی فروخت اور برآمدات بحال کرنے کی اجازت ملنے کا امکان ہے۔خبرایجنسی کے ذرائع کے مطابق ایران تیل اور ایندھن کی فروخت فوری بحال کر سکے گا۔امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں رعایت بینکاری، ٹرانسپورٹ اور انشورنس خدمات پر بھی لاگو ہوگی، سہولت ایران کی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد سےمشروط ہوگی۔
