0

ایران امریکا معاہدے کے قریب؟ 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی زیرِ غور!

اوراب کچھ عالمی منظرنامےسے بڑی خبروں پرایک نظرڈالتےہیں
امریکی میڈیا ایران اور امریکا کے درمیان زیرِ غور حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں تفصیلات کے مطابق ممکنہ معاہدے میں فریقین کے درمیان جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات شامل ہیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام اور مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا ایک ایسے مجوزہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس پر اتفاق کی صورت میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔امریکی حکام کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کی ابتدائی مدت 60 روز تک ہوگی تاہم باہمی رضامندی سے اس میں توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق اس دورانیے میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی ٹول وصول کیا جائے گا نہ ہی کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے گی جب کہ ایران بحری جہاز کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر بھی آمادگی دکھائے گا۔ایران کے ان اقدامات کے بدلے میں امریکا ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا اور بعض پابندیوں میں نرمی کی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ طور پر تیل فروخت کر سکے۔ امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اس اقدام سے ایران کی معیشت کو بڑا فائدہ ہونے کا امکان ہے تاہم ان کے مطابق اس سے عالمی تیل منڈی کو بھی نمایاں ریلیف ملے گا۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاہدے میں ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ کے اصول پر زور دے رہے ہیں یعنی ایران جتنی تیزی سے بحری راستے کھولنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے اقدامات کرے گا، اتنی ہی تیزی سے امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔امریکی حکام کے مطابق ایران فوری طور پر منجمد اثاثوں کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں تھا، تاہم امریکا نے واضح کیا ہے کہ ایسا صرف حتمی معاہدے میں ٹھوس عملی اقدامات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق اس عرصے کے دوران ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کو معطل کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنے پر مذاکرات ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو افزودگی معطل کرنے کے حوالے سے زبانی یقین دہانیاں کرائی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں