NEW VLOG-900 WORDS
ناظرین۔۔
سوئٹرزلینڈ میں کل امن معاہدہ ہونے جارہاہے جس کاپوری دنیاکوانتظارہےلیکن امریکاایران جنگ کافاتح کون ہے اس پرپوری دنیامیں بحث چھڑچکی ہے،،دنیابھرکامیڈیا ایران کو فاتح اور امریکا کوشکست خوردہ کہہ رہاہے ،اور اسرائیل کیلئےتوشرمندگی ہی شرمندگی پائی جارہی ہے،اسرائیل نے ایران کےخلاف امریکا کےذریعے جنگ چھیڑکرنہ صرف پوری دنیا سے نفرت سمیٹی ہے بلکہ سفارتی تعلقات بھی خراب کرلئے ہیں اور وہ ایک طرح سے عالمی تنہائی کاشکارہوچکاہے ۔۔بالکل اسی طرح جیسے کئی دہائیوں سے ایران سفارتی تنہائی کاشکارتھا۔۔۔
ناظرین۔۔۔مشرقِ وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی ایران کے خلاف جنگ کے بعد امریکا کی عالمی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ایسانقصان جسے کئی دہائیوں تک پورانہیں کیاجاسکےگا،امریکی تاریخ میں یہ سیاہ دھبے کی طرح ہمیشہ موجود رہےگا۔۔
ناظرین۔۔۔برطانوی میڈیا ’دی ڈیلی ٹیلی گراف‘ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اسرائیل امریکا کی ایران کے خلاف جنگ نے ناصرف خطے کو تباہی سے دو چار کیا بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض میں اعلان کیا تھا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں سے نکل رہا ہے لیکن اس کے 1 ماہ بعد ہی امریکی بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا۔اس کے بعد 108 روزہ جنگ نے پورے خطے میں شدید کشیدگی پیدا کر دی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ٹیلی گراف کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ایران کا نظامِ حکومت بھی برقرار رہا ہے، اس جنگ کے دوران امریکا نے بڑے پیمانے پر عسکری طاقت استعمال کی لیکن سیاسی مقاصد حاصل نہ کر سکا۔رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اس تنازع کے باعث امریکا کی عالمی قیادت پر اعتماد کمزور ہوا ہے، امریکا نے جنگ کے دوران تقریباً 13000 فضائی حملے کیے اور 100 ارب ڈالرز کے ہتھیار استعمال ہوئے جس سے اس کی فوجی صلاحیتیں بھی متاثر ہوئیں۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق معاشی طور پر بھی اس جنگ کے اثرات شدید رہے، آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے عالمی تیل کی 20 فیصد سپلائی متاثر ہوئی جبکہ عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہوا۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران روزانہ 2 ارب ڈالرز تک لاگت آئیرپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمت سامنے آئی ہے تاہم اس میں کوئی حتمی امن معاہدہ شامل نہیں اور آئندہ 60 دن مذاکرات کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔
ناظرین ۔۔۔۔رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے امریکا کے اتحادیوں، خاص طور پر یورپ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی دراڑیں پیدا کی ہیں جبکہ اسرائیل بھی سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہوا ہے۔رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ایران اس جنگ سے کمزور ہونے کے باوجود سیاسی طور پر مضبوط ہوا ہے جبکہ امریکا کی ساکھ، قیادت اور عالمی اثر و رسوخ کو سنگین نقصان پہنچا ہے۔
اورناظرین،،ایران امریکا معاہدے کےحوالےسے اپ ڈیٹ یہ ہےکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دئیےہیں ،،وزیرِ اعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط پہلے ہی موجود ہیں۔
سوال یہ پیداہوتاہے اگرمعاہدہ ہوجاتاہے توپھرپاکستان کوکیاحاصل ہوگا؟پاکستان کہاں کھڑاہوگا؟ماہرین کاکہناہے پاکستان کو کئی اہم سفارتی، سیاسی اور معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ فوائد خود بخود نہیں ملیں گے، بلکہ پاکستان کو انہیں عملی نتائج میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس معاہدے سے پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوگا،پاکستان خود کو ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث (Mediator) کے طور پر منوا سکے گا۔ ،امریکا، ایران، خلیجی ممالک اور یورپی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات مضبوط ہوں گے۔ پاکستان کا کردار مستقبل کے علاقائی تنازعات میں بھی اہم سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کاعالمی فورمز پر وزن بڑھے گا،،اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی بات زیادہ توجہ سے سنی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو “امن ساز ریاست” کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔ سیاسی طورپرامریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئےگی ،،واشنگٹن پاکستان کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ دفاعی، تجارتی اور سکیورٹی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ اعتماد میں اضافہ ہوگاخلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید بہترہوں گے،،سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی خطے میں استحکام کے حامی ہیں، اس لیے پاکستان کا کردار ان کے نزدیک بھی اہم ہو سکتا ہے۔ معاشی طورپربھی پاکستان کئی فوائد سمیٹ سکےگا،،تیل کی قیمتوں میں کمی کےذریعے،،ایران سے سستے تیل کی خریداری سے ،پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا،،سیاسی استحکام اور سفارتی کامیابی سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے۔ ،،خلیجی سرمایہ کاری اور امریکی کاروباری دلچسپی میں اضافہ ممکن ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت بڑھ سکتی ہے۔ گوادر اور علاقائی راہداری منصوبوں کو نئی اہمیت مل سکتی ہے۔ وسطی ایشیا، ایران اور خلیج کے درمیان پاکستان کو تجارتی پل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ماہرین کہتے ہیں ۔۔امریکا سے تجارتی مراعات یا سرمایہ کاری پیکجز حاصل کرے۔ آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں میں سفارتی سپورٹ مضبوط بنائے۔ ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے سے پابندیوں میں نرمی حاصل کرے۔ خلیجی ممالک سے مزید سرمایہ کاری اور مالی تعاون لے۔ اورخود کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان مستقل سفارتی پل کے طور پر منوائے۔ قصہ مختصراس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کے لیے سفارتی وقار ہوگا۔ اگر اسلام آباد اس موقع کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو اسے بہتر عالمی حیثیت، امریکا و ایران دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات، کم تیل قیمتوں کا فائدہ، زیادہ سرمایہ کاری اور علاقائی تجارت کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ البتہ یہ فوائد اسی صورت میں مستقل شکل اختیار کریں گے جب پاکستان اس سفارتی کامیابی کو معاشی اور تجارتی معاہدوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو۔ دیکھتے ہیں فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر اور وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں یہ تمام مقاصد حاصل کئے جاتےہیں یاپھرہمیشہ کی طرح پاکستان ہاتھ ملتارہ جائےگا
