اگر آپ ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان ہونے والے فیفا ورلڈکپ 2026 کے فائنل کا آخری وقت میں ٹکٹ خریدنا چاہتے ہیں تو شاید آپ کا کروڑ پتی ہونا ضروری ہےکیونکہ میچ سے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے بعض ٹکٹوں کی قیمت 20 لاکھ امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔
قطری نشریاتی اداے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فیفا کے سرکاری ری سیل پلیٹ فارم پر ورلڈکپ فائنل کے بعض ٹکٹوں کی قیمت 23 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 64 کروڑ پاکستانی روپے) تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد یہ تنقید مزید شدت اختیار کرگئی ہے کہ عام شائقین کے لیے اس تاریخی مقابلے کو اسٹیڈیم میں جا کر دیکھنا تقریباً ناممکن بنادیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا کے لیونل میسی اور اسپین کے نوجوان سپر اسٹار لامین یامال کے درمیان اس تاریخی مقابلے نے ٹکٹوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث ری سیل مارکیٹ میں قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔
ہفتے کے روز فیفا کی ویب سائٹ پر ایک بھی ٹکٹ دستیاب نہیں تھا، تاہم فیفا کے ری سیل پلیٹ فارم پر ٹکٹوں کی قیمت تقریباً 10 ہزار ڈالر سے شروع ہو کر 23 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایونٹ کے دوران تقریباً تمام میچ ہاؤس فل رہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گروپ مرحلے کے 72 میں سے نصف سے زیادہ میچز میں اسٹیڈیم مکمل طور پر بھرے ہوئے تھے، جب کہ باقی بیشتر میچوں میں بھی صرف چند سو نشستیں خالی رہیں۔
48 ٹیموں پر مشتمل تاریخ کے سب سے بڑے ورلڈ کپ کے ساتھ شائقین کی دلچسپی بھی غیر معمولی رہی۔ ابتدائی طور پر گروپ مرحلے کے ٹکٹ کی قیمت 575 ڈالر مقررکی گئی تھی جو 2022 کے ورلڈکپ کے مہنگے ترین گروپ ٹکٹ سے بھی دوگنا سے زیادہ تھی۔
بدھ کے روز فائنل کے لیے سیکڑوں ٹکٹیں ابھی بھی تقریباً 7 ہزار ڈالر میں دستیاب تھے، جس پر یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ شاید فیفا نے قیمتیں حد سے زیادہ بڑھا دی ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ دراصل سلو ٹکٹنگ نامی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس میں منتظمین جان بوجھ کر محدود تعداد میں ٹکٹ جاری کرتے ہیں تاکہ مانگ میں اضافہ ہو اور خریدار جلد فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائیں۔
اس کے علاوہ امریکا میں ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت سے متعلق نسبتاً نرم قوانین نے بھی قیمتوں میں اضافے کو ہوا دی، کیونکہ ری سیل کرنے والوں کو اپنی مرضی سے قیمت مقرر کرنے کی کافی آزادی حاصل ہے۔ اس کے برعکس شریک میزبان ملک میکسیکو میں ری سیل کرنے والوں کو ٹکٹ اس قیمت سے زیادہ پر فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی جس میں انہوں نے خود خریدا ہو۔
امریکی جریدے فوربس کے مطابق یہ ورلڈکپ امریکا کی تاریخ کا سب سے مہنگا کھیلوں کا ایونٹ بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ ورلڈکپ فائنل کے میدان کی گھاس کے چھوٹے ٹکڑے بھی یادگاری اشیاءکے طور پر کم از کم 450 ڈالر میں فروخت کیے جا رہے ہیں، جس پر بھی شائقین نے اعتراض کیا ہے۔
