0

قومی کھیل ہاکی کا زوال، حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اور بحالی کی نئی امید

ناظرین! آج ہم کسی سیاسی جنگ یا سرحدوں کی کشیدگی کی بات نہیں کریں گے، بلکہ آج بات ہوگی اس قومی فخر، مان اور عزت کی جسے ہماری حکومتوں اور محکموں نے اپنے ہی ہاتھوں سے دفن کر دیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس انتہائی دکھی لیکن کڑوے ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! کھیل صرف کھیل نہیں ہوتے، یہ کسی بھی قوم کے سینے کا تمغہ ہوتے ہیں۔ جب ملک کو فتح ملتی ہے تو پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے اور ہم سینہ تان کر عالمی برادری کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس! آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہماری قومی ہاکی ٹیم، روایتی حریف انڈیا سے بدترین اور عبرتناک شکست کھانے کے بعد ورلڈ کپ کوالیفائر سے ہی باہر ہو گئی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس نے 1950 سے لے کر 1990 کی دہائی تک ہاکی کی دنیا پر غیر متنازعہ حکمرانی کی تھی۔ چار مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کا عالمی ریکارڈ آج بھی پاکستان کے پاس ہے۔ تین اولمپک گولڈ میڈلز، 3 سلور، 2 برانز، اور 8 مرتبہ ایشین گیمز کا گولڈ میڈل! چیمپئنز ٹرافی شروع کروانے کا آئیڈیا بھی ہمارا تھا اور ہم نے اسے تین بار جیتا بھی۔ اس دور میں حسن سردار، اصلاح الدین، کلیم اللہ، سمیع اللہ، شہناز شیخ اور ہاکی کے میراڈونا شہباز احمد سینئر جیسے لیجنڈز میدان میں اترتے تھے۔ یہ وہ سورما تھے جو ایک ہاف سے بال لے کر نکلتے تھے تو مخالف ٹیم کو گول کر کے ہی واپس آتے تھے۔ دنیا کی بڑی بڑی ٹیمیں ان کے نام سے کانپتی تھیں۔

ناظرین! پھر اس شان و شوکت کو کس کی نظر لگ گئی؟ 1994 کے بعد ہمارا زوال شروع ہوا۔ جب ہاکی گھاس سے نکل کر مصنوعی یعنی ایسٹرو ٹرف پر آئی تو کھیل کی نوعیت بدل گئی۔ ڈرِبلنگ اور سکلز کی جگہ طاقت، رفتار اور فٹنس نے لے لی، لیکن ہمارے نااہل محکموں نے کھلاڑیوں کو جدید خطوط پر تیار ہی نہیں کیا۔ ملک میں انٹرنیشنل معیار کی ٹرفس اور اسٹیڈیمز کی شدید کمی رہی۔ اسکول اور کالج کی سطح پر ہاکی کے ٹورنامنٹس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس سے نیا ٹیلنٹ سامنے آنا بند ہو گیا۔ رہی سہی کسر محکمانہ کھیلوں پر پابندی نے پوری کر دی، جب پی آئی اے، کسٹمز اور بینکوں جیسے اداروں نے اپنی ہاکی ٹیمیں ختم کیں اور نوکریاں دینا بند کیں تو کھلاڑیوں کا معاشی تحفظ ہی ختم ہو گیا۔ اور سب سے بڑھ کر پاکستان ہاکی فیڈریشن کی نااہلی، کرپشن اور میرٹ کا فقدان، جس نے اس قومی وقار کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

لیکن ویوورز! اس گپ اندھیرے میں ایک کرن ضرور نظر آئی ہے۔ حال ہی میں قومی کھیل کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے حکومت پنجاب اور پی ایچ ایف نے کچھ عملی اقدامات کیے ہیں۔ 21 اگست 2026 کو راولپنڈی ڈویژن سے گراس روٹ ہاکی بحالی پروگرام شروع کیا گیا ہے، جہاں 100 سے زائد سکولوں میں انڈر 15 لڑکوں اور لڑکیوں کی ٹیمیں بنا کر انہیں مکمل اور مفت کٹس فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ہاکی فیڈریشن کے لیے 15 کروڑ روپے کی خطیر گرانٹ منظور کی گئی ہے، جسے ٹیلنٹ ہنٹ اور جدید کوچنگ پر لگایا جائے گا۔ حکومت نے ‘پنجاب ہاکی سپر لیگ’ کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور سابق اولمپئنز کو نوجوانوں کی تربیت کے لیے بطور مینٹورز رکھا جا رہا ہے۔ ہر ڈویژن میں انٹرنیشنل معیار کے اسٹیڈیمز، نئی ٹرفس اور فلڈ لائٹس بچھانے کی منظوری بھی دی گئی ہے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو ماہانہ وظائف بھی ملیں گے۔

لیکن ناظرین! میرا سوال اس حکومت، وزارتِ کھیل اور ان کے سفید ہاتھیوں سے ہے! کیا تباہی صرف ہاکی کی ہوئی ہے؟ اسکواش کو دیکھ لیجیے۔ ایک وہ وقت تھا جب جان شیر خان اور جہانگیر خان جیسے عالمی چیمپئنز نے دنیا پر راج کیا، اور آج ہم اسکواش کے نقشے پر دور دور تک نظر نہیں آتے۔ ہمارے ملک میں فٹبال کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جو گلیوں اور کچی آبادیوں میں رُل رہا ہے، لیکن انہیں کوئی پلیٹ فارم دینے والا نہیں۔ اور کرکٹ؟ کرکٹ کے ساتھ جو گھناؤنا مذاق اور سیاست آج کل ہو رہی ہے، وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔

ویوورز! وزارتِ کھیل آخر کر کیا رہی ہے؟ ان کا کام کیا ہے؟ ان بڑے بڑے افسران اور وزیروں کو جو لاکھوں روپے کی تنخواہیں، لگژری گاڑیاں اور وی آئی پی مراعات دی جاتی ہیں، وہ کس لیے دی جاتی ہیں؟ کیا یہ مراعات اس لیے ہیں کہ وہ دفاتر کے اے سی رومز میں بیٹھ کر ہمارے قومی کھیلوں کا جنازہ پڑھیں؟ آج اگر قوم کو فخر کے لمحات میسر نہیں ہیں اور ہماری قوم کا مورال ڈاؤن ہے، تو اس کی سو فیصد ذمہ دار حکومتِ پاکستان اور اس کی بوسیدہ پالیسیاں ہیں۔

کیا یہ 15 کروڑ کی گرانٹ اور چند اسکولوں میں کٹس بانٹنے سے ہماری کھوئی ہوئی عالمی ساکھ واپس آ جائے گی، یا کھیل کی وزارت کو اپنا پورا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے؟ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں خوب کھل کر دیجیے۔ ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنا مت بھولیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں