0

مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور خطے میں پائیدار استحکام کیلیے سعودی عرب نے سفارتی تجویز پیش کر دی۔

مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور خطے میں پائیدار استحکام کیلیے سعودی عرب نے سفارتی تجویز پیش کر دی۔
خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ایک جامع عدم جارحیت معاہدے کیاجائے،سعودی عرب کی تجویز
تجویز کا مقصد ممکنہ مستقبل کی جنگوں کے خطرات کو مستقل طور پر ٹالنا ہے۔فنانشل ٹائمزکادعویٰ
سعودی قیادت سمجھتی ہے خلیجی ممالک اور تہران کے درمیان اسی طرح کا کوئی فریم ورک خطےکے مفاد میں ہے۔
کئی یورپی ممالک نے سعودی عرب کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی ہے
سعودی عرب مجوزہ معاہدے کیلیے 1970 کی دہائی کے مشہور ہیلسنکی عمل کو رول ماڈل بنانا چاہتا ہے۔
سرد جنگ کے شدید ترین دور میں ہیلسنکی عمل نے بین الاقوامی طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں