ناظرین! امریکا اور ایران کی اعصابی اور نفسیاتی جنگ اب ایک ایسے نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں نقشوں کی جنگ سے لے کر یورپ تک حملوں کی منصوبہ بندیاں کی جا رہی ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز اور تفصیلی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! اس وقت سوشل میڈیا اور عالمی سیاست میں ایک عجیب و غریب ‘نقشوں کی جنگ’ چھڑ چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس پر ایک متنازع نقشہ پوسٹ کیا جس میں دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کو امریکا کا نیا علاقہ قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ امریکا نے 13 اپریل سے یہاں بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ لیکن ناظرین، ایران نے اس کا ایسا طنزیہ اور کرارا جواب دیا ہے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ بھارتی شہر حیدرآباد میں موجود ایرانی قونصل خانے نےابی ایک جوابی نقشہ جاری کر دیا، جس میں امریکی ریاست ‘کیلیفورنیا’ کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا علاقہ قرار دے ڈالا! چونکہ کیلیفورنیا اور لاس اینجلس میں ایرانیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے اور اسے ‘تہران جلس’ بھی کہا جاتا ہے، اس لیے ایران نے ٹرمپ کے اس مذاق کا اسی کی زبان میں منہ توڑ جواب دیا ہے۔
ناظرینِ گرامی! بات صرف طنز و مزاح تک محدود نہیں ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ایران اب امریکا کو یورپ میں نشانہ بنانے کے آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ ایرانی افواج نے جنوب مشرقی یورپ، خاص طور پر بلغاریہ اور قبرص (سائپرس) میں موجود امریکی فوجی اثاثوں پر ممکنہ حملوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اور تو اور، ویوورز، ایران آبنائے ہرمز کے نیچے بچھے ہوئے زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کے عالمی نیٹ ورک کو بھی کاٹنے یا اس میں خلل ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق، اس جوابی کارروائی کی شدت کا سارا انحصار اب امریکا کے اگلے قدم پر ہوگا۔
ویوورز! سفارتی محاذ پر بھی شدید ترین ڈیڈلاک آ چکا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سیدھی کھری کھری سنا دی ہیں۔ قالیباف کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر سفارتکاری کے لیے فوجی ایکشن کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے امریکی حکام ہیگسیتھ اور بیسنٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں ‘مسخروں کی ٹیم’ قرار دیا جو اپنی اوقات سے بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں۔ قالیباف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا جادوگر کی ٹوپی سے خرگوش نکلنے کا انتظار بند کرے، جب تک تیل پر پابندیاں نہیں ہٹتیں، اثاثے بحال نہیں ہوتے اور امریکی فوجی آپریشن بند نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کسی صورت نہیں کھلے گی! اسی دوران قالیباف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ عراق کا دورہ بھی کر رہے ہیں تاکہ غیر ملکی مداخلت کے خلاف پڑوسی ملک کے ساتھ مل کر مزاحمت کا محاذ مضبوط کیا جا سکے۔
ناظرین! آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کے دعوے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا میں ہرمز کھولنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اور واشنگٹن سے سوا گیارہ ہزار کلومیٹر دور اس علاقے پر دعویٰ کرنا ایک لطیفے سے کم نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دنیا اب خلیج فارس میں ‘امریکی تسلط کے بعد کے نئے عالمی نظام’ میں داخل ہو چکی ہے۔ اور اس نظام کا اثر یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مکمل طور پر سست روی کا شکار ہے۔ گزشتہ روز صرف 6 بحری جہاز وہاں سے گزرے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال سے گھبرا کر عراق نے یکم ستمبر سے آئندہ تین ماہ کے لیے اپنا خام تیل ترکیے اور شام کی پائپ لائنز کے متبادل راستوں سے برآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ خلیج پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ویوورز! اس ساری صورتحال میں خطے کے ایک اہم ملک متحدہ عرب امارات نے ایک انتہائی تشویشناک قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی معاملات تا حکمِ ثانی مکمل طور پر معطل کر دیے ہیں۔ اماراتی وزارتِ دفاع کا سنسنی خیز دعویٰ ہے کہ ایران نے ان کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جن میں سے ایک ان کی سمندری حدود میں اور دوسرا باہر گرا۔ تاہم، ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے ایک نیا ‘فالس فلیگ آپریشن’ قرار دے دیا ہے۔
اور آخر میں ناظرین، آبنائے ہرمز کے اس بحران کو حل کرنے کے لیے ایران نے اپنی حتمی شرائط امریکا کو تھما دی ہیں۔ سی این این کے مطابق، محمد باقر قالیباف نے امریکا کو مطالبات کی وہ فہرست دی ہے جس میں ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کی میعاد کل ختم ہو چکی ہے۔ اس یادداشت میں طے پایا تھا کہ امریکا، لبنان اور دیگر محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکے گا اور جواب میں ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے حق سے دستبردار ہوگا۔
کیا امریکا ایران کی یہ حتمی شرائط تسلیم کرے گا یا مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ چھڑنے والی ہے؟ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کی ہر ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!