ایران کو نیست و نابود کرنے کے چکر میں امریکا اپنا ہی کباڑہ کر بیٹھا،،،دو ہفتوں کی جنگ میں کئی سال کا اسلحہ پھونک ڈالا،،،جدید ترین ٹام ہاک کروزمیزائل سمیت کئی مہنگے اور خوفناک ہتھیار وں کا ذخیرہ ختم ہونے کےقریب ،، پینٹاگون نے اپنے دفاعی پیداواری نظام اور اسلحہ سازی کی رفتار کو بڑھانے پر غور شروع کردیافنانشل ٹائمزکی رپورٹ کےمطابق ،،چودہ روزہ جنگ میں امریکا نے طاقت کےنشے میں ایران کےخلاف اپنے اسلحہ کےذخائرکےمنہ کھول دئیے،اتنے بم ،میزائل برسائےکہ سٹاک ختم ہونے کےقریب پہنچ گیاہے رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران اتنی بڑی مقدار میں جدید جنگی اسلحہ استعمال کر لیا ہے جو عام حالات میں کئی برسوں کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے تیزی سے ختم ہونے والے اسلحے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید **ٹاماہاک (Tomahawk) کروز میزائل** بھی شامل ہیں، جو امریکی بحریہ کے اہم ترین اسٹریٹجک ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹاماہاک میزائل عام طور پر بحری جہازوں اور آبدوزوں سے فائر کیے جاتے ہیں اور یہ ہزاروں کلومیٹر دور تک انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایران کےخلاف غیرمتوقع طویل جنگ اور مسلسل فوجی آپریشنز کے باعث بعض جدید ہتھیاروں کے ذخائر معمول سے زیادہ رفتار سے کم ہو رہے ہیں۔ جس پر پینٹاگون نے اپنے دفاعی پیداواری نظام اور اسلحہ سازی کی رفتار کو بڑھانے پر غور شروع کردیاہے ۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید میزائل نظاموں کی تیاری پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہے اور انہیں بڑی مقدار میں تیار کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر کسی تنازعے میں ان ہتھیاروں کا زیادہ استعمال ہو جائے تو ان کی دوبارہ تیاری میں مہینوں یا بعض اوقات برسوں لگ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو امریکا کو اپنے دفاعی ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف پیداواری صلاحیت بڑھانا پڑے گی بلکہ اپنی فوجی حکمت عملی میں بھی کچھ تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ کے بعد امریکی دفاعی پالیسی اور ہتھیاروں کے ذخائر کے بارے میں عالمی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
