ناظرین! مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی اور عسکری منظرنامہ اس وقت ایک ایسی خوفناک بھول بھلیاں بن چکا ہے، جہاں دوست اور دشمن کی پہچان مٹتی جا رہی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکا اور اسرائیل نے خطے میں اپنی پراکسیز کو پوری طرح متحرک کر دیا ہے۔ اگرچہ ایران کے حمایت یافتہ گروہ یمن، عراق اور شام میں موجود ہیں، لیکن امریکا اب انہی گروہوں کی آڑ میں اپنا گندا کھیل کھیل رہا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی پراکسیز کی جانب سے سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ممالک پر پراسرار حملے کیے جا رہے ہیں۔ جب یہ ممالک ایران کی طرف دیکھتے ہیں، تو تہران صاف تردید کر دیتا ہے؛ یہاں تک کہ ایران نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں سے بھی لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ تو پھر ناظرین، یہ حملے کون کر رہا ہے اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ ہم ‘پکی خبر’ پر بار بار یہ بتا چکے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے انہیں آپس میں لڑانا ہی اسرائیل کا سب سے بڑا ایجنڈا ہے۔ ماضی میں عراق کے اندر سے اسرائیلی خفیہ اڈے پکڑے جا چکے ہیں جہاں سے سعودی عرب اور ترکیہ پر میزائل داغے جا رہے تھے، اور عین ممکن ہے کہ اب بھی یہی پراسرار طاقت خطے کو آگ میں دھکیل رہی ہو۔
ناظرینِ گرامی! اس پراسرار کھیل کے بیچ امریکی میڈیا نے ایک بار پھر انکشاف کیا ہے کہ عراقی گروہ حوثیوں سے مل کر سعودی عرب پر بڑے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار کے مطابق، انٹیلی جنس رپورٹس بتا رہی ہیں کہ ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت شروع ہو چکی ہے اور مملکت کے شمالی اور جنوبی محاذوں سے سعودی عرب کے شہری انفراسٹرکچر، توانائی تنصیبات، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اور ویوورز، یہ صرف وارننگ نہیں رہی! یمن کے حوثی باغیوں نے گزشتہ روز جنوبی سعودی عرب پر حملہ کر دیا ہے، جس میں ایک پاکستانی اور 4 سالہ بچے سمیت 11 بے گناہ شہری زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی زیرِ قیادت عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے خبردار کیا ہے کہ حوثی اور عراقی ملیشیائیں مل کر بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جس سے خطے کی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔
ویوورز! سعودی تنصیبات پر ان حملوں کا سیدھا اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے۔ بحیرہ احمر میں ناکہ بندی اور حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل کی قیمت 1.74 ڈالر کے اضافے سے 81.19 ڈالر فی بیرل، جبکہ امریکی خام تیل 76.62 ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
ناظرین! ایک طرف بارود برس رہا ہے تو دوسری طرف بیانات کے گولے داغے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی اسے زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی شاندار ہے اور ایران کو اتنا شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ اب کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا۔ لیکن ویوورز، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کی اس قلابازی کا خوب مذاق اڑایا ہے۔ قالیباف نے ٹرمپ کی پالیسی کو ‘ڈرامائی سفارت کاری’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا پہلے بڑے حملے کی دھمکی دیتا ہے اور پھر فوراً مذاکرات کی بات کرنے لگتا ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ حقائق کو تسلیم کرے اور سابقہ وعدوں کی پاسداری کرے۔
ناظرین! اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع حل کرنے کے لیے تمام عسکری اور سفارتی ذرائع استعمال کرے گا، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران اندرونی طور پر منقسم ہو چکا ہے۔ وینس کے مطابق، ایران کا ایک طبقہ جنگ سے جان چھڑانا چاہتا ہے، جبکہ سخت گیر عناصر ہر صورت جنگ جاری رکھنے پر بضد ہیں۔
اور آخر میں ویوورز! اسرائیل نے غزہ میں ایک بار پھر وحشت اور بربریت کا بازار گرم کر دیا ہے۔ حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے کی حامی بھرنے کے باوجود، اسرائیل نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اسپتالوں اور طبی مراکز پر بے رحمانہ بمباری شروع کر دی ہے۔ اس کھلی دہشت گردی پر پاکستان، مصر، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، اردن، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات سمیت 8 بڑے اسلامی ممالک نے سخت ترین مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ ان ممالک نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں اسپتالوں پر حملے اور مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو لگام ڈالی جائے اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے۔
خطے میں پھیلی اس جنگ اور عالمی سازشوں کی ہر ‘پکی خبر’ آپ تک پہنچتی رہے گی۔ ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں اور اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!