0

ٹرمپ کی ایران کے خلاف معاشی جنگ، آبنائے ہرمز میں خفیہ امریکی آپریشن کا انکشاف

ناظرین! مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اب ایک ایسی تباہ کن معاشی اور خفیہ جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑنے والے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف باقاعدہ معاشی جنگ چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے پوری دنیا کو کھلے عام خبردار کیا ہے کہ وہ تیل کی اسمگلنگ سمیت ایران سے ہر قسم کا معاشی اور تجارتی تعلق توڑ لے، ورنہ انہیں بڑے اور تباہ کن اقتصادی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ امریکی صدر کا دو ٹوک کہنا ہے کہ جو بھی ملک یا مالیاتی ادارہ ایران کو ‘لائف لائن’ فراہم کرے گا، اسے عبرتناک معاشی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم، ایران نے بھی اس امریکی وار کا بھرپور جواب دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی پابندیوں کو ‘اقتصادی دہشت گردی’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ یہ سب امریکا کے اپنے 40 ٹریلین ڈالرز کے قرضوں اور بحرانوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے کر رہے ہیں۔ اسی سفارتی محاذ پر، عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے اس تنازعے کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے پر بھی انتہائی اہم تبادلہ خیال کیا ہے۔

ناظرین! دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے عراق کے دورے کے دوران اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل سے جنگ کے دوران دنیا نے ایرانی مزاحمت کی اصل طاقت دیکھ لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مزاحمت اب ایران اور عراق کی سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح پر پھیل چکی ہے، اور شہید جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کا راستہ اسی طرح جاری رہے گا۔

ویوورز! اس ساری معاشی جنگ کے پیچھے ایک انتہائی سنسنی خیز اور خفیہ امریکی کھیل بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ امریکی حکام نے خود اعتراف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 10 ملین بیرل تیل منتقل کرنے کا ایک خفیہ امریکی آپریشن جاری ہے۔ ہر رات 15 سے 20 آئل ٹینکرز امریکی لڑاکا طیاروں کے پہرے میں قافلے کی صورت میں جنوبی راستے سے گزرتے ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول پاسداران انقلاب کے پاس نہیں بلکہ ان کے اپنے پاس ہے۔ لیکن ناظرین، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان تمام امریکی دعووں اور پابندیوں کے باوجود ایران نے رواں سال 2026ء کے پہلے 4 ماہ میں ہی تیل کی فروخت سے 7.5 ارب ڈالرز کما لیے ہیں! یہ آمدنی پچھلے سال کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا زیادہ ہے، جس نے ایرانی معیشت کو ایک بہت بڑا سہارا دیا ہے اور امریکی پابندیوں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔

ناظرین! سفارتی محاذ پر افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے ابوظبی سے ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے ان تمام خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے کہ امارات نے ایران کو کوئی مالی سہولت دی ہے یا کسی مخصوص ملک کے شہریوں کے ویزے منسوخ کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر محض غلط فہمیاں اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جبکہ امارات خطے کی صورتحال سے نمٹنے اور مستقبل کی تیاری پر توجہ دے رہا ہے۔

اور آخر میں ویوورز، ایک انتہائی افسوسناک اور سوگوار خبر۔ یمن کے حوثی باغیوں کے حالیہ جہاز پر حملے میں جاں بحق ہونے والے 2 پاکستانیوں، عمیر افضل اور محمد اکرم کی میتیں اور دیگر زخمیوں کو لے کر سعودی ایئر لائن کی پرواز جدہ سے کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئی ہے، جبکہ کچھ زخمیوں کو اسلام آباد بھی منتقل کیا گیا ہے۔ یہ لمحات پورے پاکستان کے لیے انتہائی دکھ کے ہیں اور اس واقعے نے اس جنگ کی سنگینی کو ہمارے گھر تک پہنچا دیا ہے۔

اس معاشی جنگ اور خطے کے بدلتے حالات پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں۔ ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنا مت بھولیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں