0

امریکا کا ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کا اعلان

ناظرین! مشرقِ وسطیٰ میں بچھائی گئی بساط اب ایک ایسی خطرناک جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں میزائلوں سے زیادہ معاشی پابندیوں اور خفیہ ہتھکنڈوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اور بھیانک پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو ملک بھی تہران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے گا، امریکا اس کے خلاف بھی سنگین کارروائی کرے گا۔ اسکاٹ بیسنٹ نے انتہائی رعونت سے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ان کا اصل مقصد ایرانی حکومت کا خاتمہ اور اس کے پراکسی گروہوں کی کارروائیوں کو مفلوج کرنا ہے، اور انہیں یقین ہے کہ چین سمیت تمام ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلا دیکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن ناظرین! امریکا کا یہ خواب چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایران پر اس امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے روس اور چین کھل کر ایران کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ روس کی سرکاری نیوکلیئر انرجی کارپوریشن ‘روس ایٹم’ کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے امریکی پابندیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں اپنے جوہری توانائی کے منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ساتھ ایک ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے مزید دو نئے جوہری یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ چونکہ روس اور چین پہلے ہی امریکی مالیاتی نظام سے کٹ کر اپنا الگ نظام چلا رہے ہیں، اس لیے واشنگٹن کی یہ پابندیاں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

ویوورز! سفارتی ہزیمت کے ساتھ ساتھ امریکا کو عسکری محاذ پر بھی شدید ذلت کا سامنا ہے۔ 9 ماہ سے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی طیارہ بردار جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کو بالآخر ناکام ہو کر واپس امریکا جانا پڑ گیا ہے اور اس کی جگہ اب ‘جارج واشنگٹن’ نے لے لی ہے۔ ابراہم لنکن پر 5 ہزار اہلکار تعینات تھے جنہیں خوراک کی قلت اور واش رومز کی خرابی جیسے بدترین حالات کا سامنا تھا۔ صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ تو حالات کنٹرول میں ہونے کا دعویٰ کرتے رہے، لیکن سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کووپر نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ جہاز پر اہلکاروں کو انتہائی چیلنجنگ صورتحال کا سامنا تھا۔

ناظرینِ گرامی! ایران بھی اس صورتحال میں خاموش نہیں بیٹھا۔ ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے وارننگ دی ہے کہ ایران کا دفاعی صنعتی انقلاب اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور دشمن کی کسی بھی غلط فہمی یا ابھرتے خطرات کا فیصلہ کن، طاقتور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ اسی طرح سیاسی محاذ پر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسکاٹ بیسنٹ کی دھمکیوں کا کرارا جواب دیا ہے۔ عراقچی نے ٹرمپ کے اس اعلان کو ‘اقتصادی دہشت گردی’ اور امریکا کی اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام واشنگٹن کے لیے مزید شکست لائے گا۔

دوسری جانب ویوورز! امریکی سینٹرل کمانڈ یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ انہوں نے مئی سے اب تک 1300 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا ہے۔ لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔ یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہر نجران کے ہوائی اڈے اور آرامکو کی حساس تیل تنصیبات پر ڈرونز کے ذریعے بڑے حملے کیے ہیں، جس پر سعودی حکام نے فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اور ان سب حالات کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی ہے۔ برینٹ خام تیل 2.20 ڈالر اضافے کے بعد 93.82 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 88.16 ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو کہ جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

کیا امریکا واقعی ایران کا گھیرا تنگ کرنے میں کامیاب ہو پائے گا، یا روس اور چین کے گٹھ جوڑ سے یہ پابندیاں ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جائیں گی؟ اس معاشی اور عسکری جنگ کی ہر پکی خبر کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں