امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری موجودہ صورتحال کو باقاعدہ جنگ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایک معمولی فوجی تنازع قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکا کے لیے ‘چھوٹے آلوؤں’ جیسی معمولی بات ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران میں کارروائیوں کے دوران 18 امریکی ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی انتہائی محفوظ جوہری تنصیب نطنز کے قریب واقع ‘کوہ کلنگ گزلا’ کی سرنگوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول ہے، تاہم شام سے متبادل پائپ لائنز اور سڑکیں بننے کے بعد ایران جان لے گا کہ اس آبی گزرگاہ کی اہمیت اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز لے کر ان ممالک کا دورہ کریں گے۔
امریکی دھمکیوں پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے براہِ راست امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود سے پوچھیں کہ ان کے ٹیکس اور جانیں کسی اور کی جنگ میں کیوں ضائع کی جا رہی ہیں؟ انہوں نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اسرائیل کی جنگ کا ایندھن اور کرائے کا جنگجو نہ بننے دیں۔ ادھر ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرام نیا نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوج کو درپیش مسائل ان کے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہیں، اس لیے امریکا جارحیت کی قیمت چکائے اور مغربی ایشیا سے نکل جائے۔
سفارتی محاذ پر بھی صف بندیاں جاری ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے میں مشترکہ سلامتی سے متعلق چین کی تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہوئے علاقائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کریں۔ دوسری جانب، امریکا نے ‘آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ’ کے تحت ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق کے الزام میں ترکیے کے ‘گولڈن گلوبل’ بینک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ مالیاتی اداروں کو امریکی اقدامات کی سنجیدگی کا اندازہ کر لینا چاہیے اور اگر عالمی برادری نے ایران کی حمایت نہ روکی تو مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
