ناظرین! مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ایسی نفسیاتی اور اعصابی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے اثرات براہِ راست سپر پاور کی فوج پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکا جو دنیا بھر میں اپنی فوجی طاقت کا لوہا منواتا ہے، آج اس کی اپنی فوج اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق طویل تعیناتی کے باعث امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کے کئی اہلکاروں نے تنگ آ کر سمندر میں کودنے اور خودکشی کی کوشش کی ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ایک اہلکار کی اہلیہ نے انکشاف کیا ہے کہ 250 روز سے زائد کی طویل ڈیوٹی اور جہاز پر خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت نے اہلکاروں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اگرچہ امریکی بحریہ نے جہاز پر تعینات فوجیوں میں خودکشیوں اور ذہنی مسائل کی تردید کی ہے، لیکن امریکی سینیٹرز نے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ناظرینِ گرامی! دوسری جانب سمندروں پر کنٹرول کی جنگ بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ ایران نے صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایران کی بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب کا دو ٹوک کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔ امریکی میڈیا اور ماہرین بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ آمدورفت کی معطلی سے عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں اور بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے جہاز رانی کمپنیاں شدید خوف کا شکار ہیں۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، ہرمز میں بحری آمدورفت بحال نہیں کی جائے گی۔ اسی دوران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کی حمایت کرنے والا یورپ اپنی اخلاقی حیثیت کھو چکا ہے، اب فرانس جیسے ممالک دنیا کو انسانی حقوق کا درس دینا بند کریں۔
ویوورز! اس کشیدگی کے بیچ ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی مکمل طور پر تبدیل کر لی ہے۔ نئے فوجی ڈاکٹرائن کے تحت پاسداران انقلاب کو اب دشمن کی سرزمین پر حملوں کی صلاحیت حاصل کرنے کا باقاعدہ حکم دے دیا گیا ہے۔ پاسداران کے سینیئر مشیر بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی نے کہا ہے کہ امریکا کا جنگی بجٹ ایران سے 100 گنا زیادہ ہونے کے باوجود ان کے تمام 14 مقاصد ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کا واضح کہنا تھا کہ جنگ اب دشمن کے علاقے تک لے جائی جائے گی اور جارحانہ ڈاکٹرائن کی یہ خصوصیت ہر حال میں پوری ہونی چاہیے۔
ناظرین! اب آتے ہیں ایک انتہائی سنسنی خیز اور تہلکہ خیز انکشاف کی طرف۔ برطانوی نیوز ویب سائٹ ‘مڈل ایسٹ آئی’ کے مطابق، ترکیہ کو شبہ ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ ماہ انقرہ میں نیٹو سربراہی کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی ایک جھوٹی اور من گھڑت رپورٹ تیار کی تھی! ترک حکام کے مطابق اس جعلی اسرائیلی سازش کا واحد مقصد ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے سے روکنا تھا۔ نیتن یاہو کی حکومت خود کو ٹرمپ کا محافظ بنا کر پیش کرنا چاہتی تھی تاکہ ایران اور امریکا کا معاہدہ سبوتاژ کیا جا سکے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ اس جھوٹی رپورٹ کا مقصد صدر ٹرمپ کے اردوان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو خراب کرنا اور ترکیہ کو ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کی طرف دھکیلنا تھا۔
اور آخر میں ویوورز! جنرل محمد رضا نقدی نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک پی بی ایس کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ایک ایسی دھمکی دی ہے جس نے پینٹاگون کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی غلطی کی، تو اسی کے اگلے روز دنیا بھر میں موجود امریکا کے تمام فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا جائے گا! ان کا کہنا ہے کہ آج دنیا بیدار ہو چکی ہے اور کوئی بھی دوسری عالمی جنگ جیسے جرائم کی اجازت نہیں دے گا۔ جنرل نقدی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ایران کو ایٹم بم کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ حالیہ جھڑپوں نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی فوج توقع سے کہیں زیادہ کمزور اور کھوکھلی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی اس گھمسان کی جنگ اور عالمی سیاست کی ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ

