0

پاکستانیوں کی ہلاکت، میزائل کس نے داغا؟ بڑا سوال

ناظرین! امریکا اور ایران کی اس ہولناک جنگ نے اب ایک ایسا خطرناک اور اندوہناک موڑ لے لیا ہے جس کا ڈر ہم سب کو پچھلے کئی ماہ سے تھا۔ اس جنگ کی آگ اب پاکستان کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے اور پاکستانیوں کا خون بہہ گیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس انتہائی اہم اور حساس ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! افسوسناک خبر یہ ہے کہ بحیرہ احمر میں باب المندب کے مقام پر ایک کارگو بحری جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے عملے میں بدقسمتی سے پاکستانی شہری بھی سوار تھے۔ یمنی حکومت اور کوسٹ گارڈ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حوثی باغیوں کے اس خطرناک حملے میں کارگو جہاز کے ڈیک کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین پاکستانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب میری ٹائم سیکیورٹی ذرائع نے خلیج عمان میں بھی ایک پاناما کے پرچم بردار کنٹینر جہاز پر میزائل حملے کی اطلاع دی ہے، اور یہ حملہ پاکستانی ساحل سے محض 71 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہوا ہے۔

ناظرینِ گرامی! یمنی حوثیوں کے حملے میں پاکستانیوں کی شہادت کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ حوثیوں نے بالآخر پاکستان کو بھی اس لڑائی میں گھسیٹ لیا ہے، جس سے پاکستان بطور ثالث بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ سعودی عرب کے ساتھ ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ کرنے کے باوجود، پاکستان نے خطے کے امن کی خاطر ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو نہ تو کوئی دھمکی دی تھی اور نہ ہی کوئی کارروائی کی تھی۔ لیکن اب، اپنے شہریوں کی شہادت کے بعد کیا پاکستان خاموش رہ پائے گا؟ کیا مکہ دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے؟ کیا پاکستان یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دے گا؟ یہ وہ سلگتے ہوئے سوالات ہیں جن کا جواب آنے والا وقت دے گا، لیکن حکومتِ پاکستان نے اس واقعے پر شدید ترین ردعمل دے دیا ہے۔

ویوورز! پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا واضح کہنا ہے کہ بے گناہ انسانی جانوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے سمندری سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سعودی حکام اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔ اسحاق ڈار نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں کی وطن واپسی کے لیے فوری اور ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ پاکستان سعودی قیادت میں قائم بحری سلامتی اتحاد کا حصہ ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار کھڑا ہے۔

ناظرین! اس ساری صورتحال میں ایک بہت بڑا اور حیران کن سسپنس بھی سامنے آ گیا ہے۔ ذرا اس بات پر غور کیجیے! جس کارگو جہاز پر یمنی حوثیوں کے مبینہ حملے میں تین پاکستانی مارے گئے ہیں، اس پر پاناما کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ اور دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے باقاعدہ تصدیق کر دی ہے کہ امریکی فوج نے اپنی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے ‘پاناما’ کے پرچم بردار کارگو جہاز ‘ویلا نووا’ پر میزائل فائر کیے ہیں! سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اب تک 55 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا اور 3 کو غیر فعال کیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ حملہ حوثیوں نے کیا تھا، یا پھر امریکی سینٹکام کے داغے گئے میزائلوں نے پاکستانیوں کی جان لی ہے؟ اس اندھے وار کی اصل حقیقت کیا ہے، اس کی حتمی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے اور یہ انکشاف جنگ کا پورا نقشہ بدل سکتا ہے۔

ویوورز! دوسری جانب بیانات اور دھمکیوں کی جنگ بھی عروج پر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے غرور سے دعویٰ کیا ہے کہ صورتحال ان کے حق میں بہتر جا رہی ہے اور آبنائے ہرمز پر صرف اور صرف امریکی بحریہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ انہوں نے ایران کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا اس آبی گزرگاہ پر کوئی کنٹرول نہیں۔ لیکن ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک ایسی خوفناک دھمکی دی ہے جس نے دنیا کے ہوش اڑا دیے ہیں۔

ناظرین! پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی جنگی جہاز موجود نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو مزید خطرات کا سامنا ہوا تو خطے میں موجود تمام امریکی اور غیر امریکی توانائی سسٹمز اور انٹرنیٹ سے جڑا عالمی انفراسٹرکچر تباہ کر دیا جائے گا! جنرل محبی نے انکشاف کیا کہ امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر بمباری کی تھی، جس کا ایسا منہ توڑ جواب دیا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کے لیے جنگ جاری رکھنا محال ہو گیا۔

اور آخر میں ویوورز، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے کڑی شرائط رکھ دی ہیں۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکا اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ انہوں نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیغام بھیج دیا ہے کہ اگر وہ یہ سمندری راستہ کھولنا چاہتا ہے، تو اسے جنگ ختم کرنی ہوگی اور ایران کے تمام منجمد اثاثے بحال کرنے ہوں گے۔

خطے میں پیدا ہونے والی اس شدید ترین کشیدگی اور پاکستانیوں کی شہادت کے بعد پاکستان کے ممکنہ ایکشن پر ہماری گہری نظر ہے۔ جنگ کی ہر اندرونی کہانی اور ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں اور کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں