خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ؟ وزیراعظم ہاؤس میں آج ہنگامی اجلاس طلب! آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت کے پی میں گورنر راج لگانے پر سنجیدہ غور و خوض شروع ہو گیا۔ وفاقی وزرا کا الزام ہے کہ صوبائی حکومت سیاسی مفادات کے لیے سیکیورٹی اداروں کو کام سے روک رہی ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دو ٹوک اعلان؛ وفاق چاہے کچھ بھی کرلے، 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوکر رہے گا، دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے!
وزیراعظم ہاؤس کے اجلاس میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات پر بھی غور کیا جائے گا۔وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی آپشنز زیرِ غور آنے کی اطلاعات کے بعد سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان جاری کشیدگی نے آنے والے دنوں کو ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہم بنا دیا ہے۔
